The news is by your side.

سیاسی استحکام کے لئے قیادت کو مذاکرات کرنا ہونگے، چیف جسٹس

اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمرعطا بندیال کا کہنا ہے کہ ملک میں سیاسی استحکام کے لئے سیاسی لیڈر شپ کو مذاکرات کرنا ہونگے،سیاسی مسائل کا حل مذاکرات سے ہی نکل سکتاہے۔

تفصیلات کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں منعقدہ جوڈیشل کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا، چیف جسٹس نے کہا کہ سیاسی لیڈر شپ کو بات چیت کرنی چاہیے کیونکہ سیاسی مسائل کا حل مذاکرات سے ہی نکل سکتاہے۔

انہوں نے کہا کہ آئین کی بالادستی کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر کام کرنا ہوگا، مقننہ اور ایگزیکٹو یقینی بنائے کہ ان کی کارکردگی سے ترقی ہو نا کہ تنزلی۔

چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے اپنے خطاب میں کہا کہ آئین پاکستان عوام کی امنگوں کی ترجمان ہے، جس میں عوام کےبنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا گیا ہے، یوسف رضا گیلانی کیس میں آئین کی پاسداری کی گئی جبکہ نعمت اللہ کیس میں آئین کی شق نائن پرعملدرآمد یقینی بنایاگیا۔

جوڈیشل کانفرنس سے خطاب میں چیف جسٹس نے کہا کہ عدم اعتماد کی تحریک میں قومی اسمبلی کو تحلیل کردیاگیاتھا، عدالت عظمیٰ نے اسمبلی کی تحلیل اور ڈپٹی اسپیکرکی رولنگ کو غیرآئینی قراردیا۔

اپنے خطاب میں چیف جسٹس نے کہا کہ عدلیہ نے ٹرانس جینڈرکو شناختی کارڈ جاری کرنےکافیصلہ دیا اس کے علاوہ عدلیہ نےاقلیتوں کےحقوق سمیت اسکولوں سےمتعلق اہم فیصلےدیئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عدلیہ تنہا چیلنجز سے نہیں نمٹ سکتی، ایگزیکٹو کو فیصلوں پربلاتاخیرعمل کرناچاہیے اور بوگس کیسز کلچرکا خاتمہ ہوناچاہیے، ویڈیولنک کے ذریعے بھی کیسزسنےجارہےہیں کیونکہ جمہوریت قانون کی بالادستی کےبغیررول آف ہجوم رہ جاتی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں