The news is by your side.

Advertisement

میواسپتال کا جب سےدورہ کیا، دل پربوجھ لےکرپھررہا ہوں‘ چیف جسٹس

لاہور: چیف جسٹس آف پاکستان اسپتالوں کی حالت زارسے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ سرکاری اسپتالوں میں اچھا نظام ہونا چاہیے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے اسپتالوں کی حالت زار سے متعلق ازخودنوٹس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ میواسپتال کا جب سے دورہ کیا، دل پربوجھ لے کرپھررہا ہوں۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ تمام سرکاری اسپتالوں میں اچھا نظام ہونا چاہیے، دو، دو ماہ کے بچوں کی بھی مناسب دیکھ بھال نہیں ہورہی۔

انہوں نے کہا کہ چلڈرن اسپتال کا خود دورہ کروں گا، دیکھا جائے گا وہاں بچوں کو سہولیات میسر ہیں یا نہیں۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیے کہ سب کی ذمہ داری ہے کہ مریضوں کی خدمت کریں، انہوں نے استفسار کیا کہ بتایا جائے کس سرکاری اسپتال میں بہتری لائی گئی ہے۔

ایم ایس سروسزنے عدالت کو بتایا کہ اسپتال میں پہلے 400 بیڈ تھے اب بڑھا کر 614 کردیے گئے ہیں۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ لاہور میں آخری اسپتال کب اور کہاں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر اپنے کلینکس پر4 گھنٹے دیتے ہیں تو 2 گھنٹے کردیں، کوئی جتنی مرضی تنقید کرے پراوہ نہیں ہے۔


پرائیویٹ میڈیکل کالجزمیں زائد فیسوں کی وصولی کا کیس


دوسری جانب سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے پرائیویٹ میڈیکل کالجزمیں زائد فیسوں کی وصولی کے کیس میں ینگ ڈاکٹرزکوسہولت اورتنخواہوں کی شکایات کی رپورٹ طلب کرلی۔

ایسوی ایشن نے عدالت کو بتایا کہ ینگ ڈاکٹرزکو45 ہزارماہانہ وظیفہ ادا کیا جاتا ہے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ڈگری لینے کے بعدمعاوضہ نہ ہونے کے برابردیا جاتا ہے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ڈگری لینے کے بعد معاوضہ نہ ہونے کے برابردیا جاتا ہے، پڑھے لکھے طبقے کواہمیت نہ دی جائے تو وہ کہاں جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ چیف سیکرٹری بتائیں 45 ہزارماہانہ میں گزارا کرسکتے ہیں، ریاست کو ملازمین کے لیے مالک نہیں بننا بلکہ کفالت کرنی ہے۔


صاف پانی کیس: چیف جسٹس کا وزیراعلیٰ پنجاب کوکل11بجے پیش ہونے کا حکم


چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیے کہ ڈاکٹرکو موقع مل جائے تو وہ یورپ یا امریکہ چلا جاتا ہے، ہمیں علم ہے مسائل کیا ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ینگ ڈاکٹرزہمیں شکایات تحریری طور پر دے، رپورٹ کوآرٹیکل 190، 5، 204 کےتحت پرکھا جائے گا۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے وہ اپنا فرض نبھائے، سپریم کورٹ کے حکم کونہیں مانا جائےگا توخاموش نہیں بیٹھیں گے۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیے ڈاکٹرعاصم آپ نے بھاگنا نہیں ہے ، ہمیں چھوڑکرنہیں جانا، ڈاکٹرعاصم صاحب آپ ہمارے لیے بہت اہم ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات  کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں