The news is by your side.

Advertisement

قانون کی تعلیم کا ایسامعیارچاہتےہیں کہ اچھے وکیل پیدا ہوں‘ چیف جسٹس

لاہور: غیرمعیاری لاء کالجزسے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے جائزے کے لیے کمیٹی قائم کرتے ہوئے تعلیمی اصلاحات پررپورٹ 5 ہفتے میں مرکزی کمیشن کو فراہم کرنے کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں غیرمعیاری لاء کالجز سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کی۔

سپریم کورٹ نے کمیشن کو7ہفتے میں لاء کالجز، قانون کی تعلیم میں ریفارمزپررپورٹ دینے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی کمیشن تعلیمی اصلاحات پر5 ہفتے میں رپورٹ مرکزی کمیشن کو دے۔

عدالت عظمیٰ کی جانب سے حکم دیا گیا کہ مرکزی کمیشن اصلاحاتی رپورٹ متعلقہ اسٹیک ہولڈرزکو فراہم کریں اور ساتھ ہی تمام صوبائی چیف سیکریٹریزکو بھی کمیشن کی معاونت کرنے کا حکم دیا گیا۔


قانون پرعملدر آمد کا وعدہ پورا نہ کیا تو میرا گریبان اور آپ کا ہاتھ ہوگا: چیف جسٹس


چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے دوران سماعت ریمارکس دیے کہ قانون کا معیار تعلیم بہتر کرنا چاہتے ہیں، رات ایک تصویر دیکھی کہ ایک رات میں بی اے پاس کریں۔

انہوں نے کہا کہ تعلیمی نظام ایسے نہیں چلے گا، قانون کی تعلیم کا ایسا معیار چاہتے ہیں کہ اچھے وکیل پیدا ہوں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پرائیویٹ لاء کالجزخلا ضرور مکمل کریں مگرکاروبار نہ کریں۔

سپریم کورٹ نےغیرمعیاری لاء سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت 7ہفتے کے لیے ملتوی کر دی۔

یاد رہے کہ گزشتہ روزچیف جسٹس نے ملکی جامعات کو کسی بھی نئے لاء کالج کےساتھ الحاق سے روک دیا تھا اور یونیوسٹیوں کے وائس چانسلرز کو لاکالجز کی انسپکشن کا حکم دیا تھا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں