The news is by your side.

Advertisement

جعلی پولیس مقابلہ: سپریم کورٹ نےواقعے میں ملوث اہلکاروں کوطلب کرلیا

لاہور: سپریم کورٹ آف پاکستان نے جعلی پولیس مقابلے میں ملوث اہلکاروں کو طلب کرتے ہوئے سماعت 7 اپریل تک ملتوی کردی۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے جعلی مقابلہ کیس کی سماعت کی، اس دوران متاثرہ خاتون صغریٰ بی بی نے کہا کہ پولیس نے مجھے اوربیٹے کواغوا کے مقدمے میں ملوث کیا۔

متاثرہ خاتون نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ10ماہ بعد بری ہوئی، بیٹے کوجعلی پولیس مقابلے میں ماردیا گیا، صغریٰ بی بی نے سوال کیا کہ جج صاحب، مجھے انصاف کہاں سے ملے گا، پولیس کب تک ماؤں کی گود اجاڑتی رہے گی۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ اگرحق کی بات ہوگی تو انصاف ملے گا، انصاف شورڈالنے سے نہیں حقائق پرملے گا، انہوں نے بیرسٹرسلمان صفدرکوخاتون کا وکیل مقررکردیا اور متاثرہ خاتون کوتحفظ فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔

عدالت عظمیٰ میں سماعت کے دوران پراسیکیوٹرجنرل پنجاب احتشام قادرشاہ نے واقعے سے متعلق چیف جسٹس کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ پہلی جوڈیشل انکوائری میں یکطرفہ کارروائی کی گئی۔

پراسیکیوٹرجنرل پنجاب احتشام قادرشاہ نے بتایا کہ انکوائری میں فیصلہ خاتون کے خلاف کیا گیا جبکہ دوسری جوڈیشل انکوائری میں فیصلہ خاتون کے حق میں آیا۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ملزمان کے وکیل کی سرزنش کی اور انہیں دلائل دینے سے روک دیا۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے ایڈیشنل آئی جی ابوبکرخدابخش کومعاونت کے لیے آئندہ سماعت پرطلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 7 اپریل تک ملتوی کردی۔


جعلی پولیس مقابلہ: ہلاک ہونے والے نوجوان کی ماں نے چیف جسٹس کی گاڑی روک لی


یاد رہے کہ گزشتہ روز سیالکورٹ پولیس کے ہاتھوں قتل ہونے والے بیٹے کے لیے ماں نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری کے باہر احتجاج کیا تھا اور چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی گاڑی روک لی تھی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں