ڈیموں کی تعمیر کا حکم دیا تو سازشیں شروع ہوگئیں، چیف جسٹس
The news is by your side.

Advertisement

ڈیموں کی تعمیر کے خلاف سازشیں‌ اور کرپشن کا خاتمہ، چیف جسٹس نے اعلانِ جہاد کردیا

کرپشن کے ناسور اور ڈیموں کی تعمیر نہ کی تو ہم اپنے بچوں کو کچھ نہیں دے سکیں گے

ملتان: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ملک میں چالیس سال سے ڈیم نہیں بنے ہم نے ڈیمز کی تعمیر کا حکم دیا تو گلگت بلتستان میں سازشیں شروع ہوگئیں، ہمیں تمام سازشوں کو مل کر کچلنا اور معاشرے سے کرپشن کے ناسور کو ختم کرنا ہوگا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملتان بار ایسوسی ایشن میں وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ لوگوں کو بنیادی حقوق کی فراہمی احسان نہیں بلکہ یہ اُن کا حق ہے اور اس کی ذمہ داری عدالت پر ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان بنانے والوں کی قربانیوں سے سب واقف ہیں، یہ ملک ہمیں جدوجہد کے بعد ہی ملا، اب دیکھنا ہے کیا ہم نے پاکستان کی حفاظت اس کرح کی کہ جس طرح کرنی چاہیے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ملک میں صرف اور صرف کرپشن نے راج کیا اور آج یہ ناسور ہمارے معاشرے میں سرایت کرچکا، ہمیں کرپشن کے  خلاف جہاد کرنا ہوگا کیونکہ اگر ہم اس کو ختم نہ کرسکے اور اپنے ملک کو صاف نہ کیا تو اپنے بچوں کو کوئی مستقبل نہیں دے سکیں گے۔

جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ ’ہمیں اپنی اصلاح کرنا ہوگی، ہم سے بعد میں آزاد ہونے والے ممالک نے زیادہ ترقی کرلی، سرکاری تعلیم نہ ہونے کے برابر ہے، ہم ملک میں تعلیم کو کاروبار نہیں بننے دیں گے، کیونکہ مجھے پاکستان سے زیادہ کچھ عزیز نہیں ہے‘۔

’فنڈز صحت تعلیم پر خرچ نہ ہوں تو پھر یہ کس کام کے لیے ہیں؟ کیونکہ اسپتالوں میں ایسے بھی آپریشن تھیٹر دیکھے جہاں چائے بنائی جارہی تھی‘۔

پانی کی قلت اور ڈیموں کی تعمیر

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پانی کی قلت کی وبا بدقسمتی سے کراچی سے شروع ہوئی جو اب اسلام آباد تک پہنچ چکی، اس کی دو وجوہات ہیں جن میں ایک ٹینکر مافیا اور دوسرا ڈیموں کی تعمیر نہ ہونا ہے، ملک میں 40 سال سے ڈیم نہیں بنائے گئے اور اب کوشش شروع کی تو سازشیں ہونا شروع ہوگئیں، جس علاقے کے سیشن ججز نے یہ بتایا کہ کئی عرصے سے اُن کے علاقے میں کوئی چوری یا جرم نہیں ہوا مگر اچانک اسکولوں کو جلا دیا گیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ ڈیم بنانے کے خلاف جاری ہونے والی سازشوں کو کچلنا ہوگا، ہم نے  کالا باغ ڈیم کو اپنے فیصلے میں مکمل مسترد نہیں کیا بلکہ یہ تحریر کیا کہ پہلے دیامیر بھاشا اور مہمند ڈیموں کے بعد چاروں صوبوں کے اتفاق سے کالا باغ بھی تعمیر ہوسکتا ہے۔

چیف جسٹس نے بتایا کہ ’میری چھوٹی نواسی نے اپنے جیب خرچ اور عیدی کی رقم جمع کر کے 7 ہزار 30 روپے ڈیموں کی تعمیر کے لیے دیے کیونکہ ہمارے بچوں کو بھی ڈیموں کی اہمیت کا اندازہ ہے‘۔

جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ ڈیموں کی تعمیر ناگزیر ہے، ہم سب کو مل کر اس کام میں حصہ لینا ہے اور پھر اس کی حفاظت بھی کرنی ہے تاکہ ہم ملک کو مسائل سے نجات دلا سکیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں