The news is by your side.

Advertisement

زیر تربیت پولیس افسران کو سمجھنا ہوگا آپ کا کام شہریوں کا تحفظ ہے: چیف جسٹس

اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے تاثر رہا ہے کہ پولیس تحفظ کے بجائے بنیادی حقوق سلب کرتی ہے، آئین اور قانون کی حکمرانی شہریوں کے بنیادی حقوق کی ضامن ہے۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میرے لیے تقریب میں شرکت خوش آئند اور باعث فخر ہے، معاشرے میں پولیس کا اہم کردار ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ معاشرے میں امن اور شہریوں کے تحفظ کے لیے پولیس کا کردار کلیدی ہے، پولیس کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا چاہتے ہیں۔ میرے بھائی بھی پولیس میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے 16 دسمبر ہمیں دو سانحات کی یاد دلاتا ہے، ایک سقوط ڈھاکہ اور دوسرا سانحہ اے پی ایس پشاور کی۔ سقوط ڈھاکہ اور سانحہ اے پی ایس جیسے واقعات سوچ میں تبدیلی کا باعث بنتے ہیں۔ شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ہر ریاست کا اولین فرض ہے، یہ ہمیں سقوط ڈھاکا سے سبق ملتا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ بدقسمتی سے تاثر رہا ہے پولیس تحفظ کے بجائے بنیادی حقوق سلب کرتی ہے، آئین اور قانون کی حکمرانی شہریوں کے بنیادی حقوق کی ضامن ہے۔ زیر تربیت افسران کو سمجھنا ہوگا آپ کا کام شہریوں کا تحفظ ہے، گورننس قانون کے مطابق ہونی چاہیئے۔

انہوں نے کہا کہ ریاست یقینی بنائے بنیادی حقوق عوام تک پہنچ رہے ہیں یا نہیں، وقت آئے گا جب پولیس کی مکمل اپروچ پر سوچنا ہوگا۔ پولیس کا کام عوام کی حفاظت ہے پراسیکیوشن نہیں۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ اے پی ایس واقعہ نے ہمیں غور کرنے پر مجبور کیا۔ سانحہ اے پی ایس کے بعد پوری قوم نے فیصلہ کیا کہ کچھ کرنا ہوگا۔ قوم نے دہشت گردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان کو سپورٹ کیا۔

انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کا اہم جزو کرمنل جسٹس سسٹم بھی ہے، کرمنل جسٹس میں ہم نے کچھ بہتری لانے کی کوشش کی۔ انصاف کے شعبے میں بہتری آرہی ہے، پولیس کی بہتری کے لیے بدقسمتی سے حکومتی سطح پر کام نہیں کیا گیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں