The news is by your side.

Advertisement

چیف جسٹس کا مختلف کمپنیوں کے دودھ کی جانچ جاری رکھنے کا حکم

کراچی : چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے مختلف کمپنیوں کے دودھ کی جانچ جاری رکھنے کے ساتھ میلاک دودھ اوراسکم ملک کی دوبارہ جانچ کرانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ یہ بھول جائیں کہ کسی کی سفارش مانوں گا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس کی سربراہی میں ڈبوں کے غیر معیاری دودھ کی فروخت سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے مختلف کمپنیوں کے دودھ کی جانچ جاری رکھنے کا حکم دیا جبکہ میلاک دودھ اور اسکم ملک کی دوبارہ جانچ کرانے کا بھی حکم دیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ رپورٹ مثبت آنے پر ان کمپنیوں کے دودھ پر پابندی ختم کردی جائے، ہمارے بچوں کی زندگیوں کا معاملہ ہے، کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

عدالت نے اسِکم ملک کی ڈبوں پر“دودھ نہیں ہے”درج کرنے کا بھی حکم دیا۔

چیف جسٹس نے اسکم ملک کے سربراہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا آپ نے سفارش بھی کرائی تھی نا؟ میرے لئے صرف اللہ کی سفارش ہے، یہ بھول جائیں کہ کسی کی سفارش مانوں گا۔

یاد رہے رواں سال کے آغاز میں چیف جسٹس نے مضر صحت دودھ کی فروخت اور ٹی وائٹنر کو بطور دودھ فروخت کرنے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے ملک بھر میں دودھ بڑھانے کے لیے جانوروں کو لگائے جانے والے ٹیکوں کی تیاری اور فروخت پر پابندی عائد کرتے ہوئے حکم دیا تھا اور کہا تھا کہ ٹی وائٹنر کو دودھ بتا کر فروخت نہیں کیا جائے گا۔ واضح الفاظ میں ڈبوں پر ’یہ دودھ نہیں ہے‘ تحریر کیا جائے۔


مزید پڑھیں : عدالت نے 4 نجی کمپنیوں کے دودھ کی فروخت پر پابندی لگا دی


عدالت نے 13 جنوری کو کراچی میں دستیاب دودھ کے ڈبے لیبارٹریز سے ٹیسٹ کرانے کا حکم دیا تھا، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ڈبوں میں فروخت ہونے والادودھ،دودھ نہیں فراڈ ہے۔

جس کے بعد 27 جنوری کو چیف جسٹس نے 4 نجی کمپنیوں کے دودھ کی فروخت پر پابندی عائد کرتے ہوئے 2 نجی کمپنیوں پر جرمانہ بھی عائد کر دیا تھا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں