The news is by your side.

Advertisement

چیف جسٹس نے چیئرمین نیب جاوید اقبال کو عہدے سے ہٹانے کی درخواست خارج کر دی

اسلام آباد : چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے چیئرمین نیب جاوید اقبال کو عہدے سے ہٹانے کی درخواست خارج کر دی۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے چیئرمین نیب کوعہدے سےہٹانے کے لیے ن لیگ کی درخواست پر ان چیمبرسماعت کی اور چیئرمین نیب جاوید اقبال کو عہدے سے ہٹانے کی درخواست خارج کر دی۔

یاد رہے کہ مسلم لیگ ن کے رہنما نور اعوان نے بھارت منی لانڈرنگ کے معاملے پر چیئرمین نیب کیخلاف اپیل دائر کی تھی، جسے رجسٹرار آفس نے اعتراضات لگا کر واپس کر دیا تھا۔

درخواست گزار نے موقف اختیار کیا تھا کہ نواز شریف سے متعلق نیب کی جھوٹی خبر سے ان کی ساکھ متاثر ہوئی ہے، نیب اعلامیہ اور بعد کے واقعات چیئرمین نیب کی نواز شریف سے متعلق منفی سوچ کے عکاس ہیں۔ انہیں عہدے سے ہٹانا ناگزیز ہے۔

درخواست گزار نے استدعا کی کہ جھوٹی پریس ریلیز جاری کرنے پر نیب نواز شریف سے معافی مانگے۔

یاد رہے کہ چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے سابق وزیراعظم نواز شریف پر 4.9 ارب روپے کی رقم منی لانڈرنگ کے ذریعے بھارت بھجوانے کے الزام کی تحقیقات کا حکم دیا تھا، جس پر مسلم لیگ ن نے سخت احتجاج کیا۔

نیب ترجمان کا کہنا تھا کہ نوازشریف پررقم منی لانڈرنگ کےذریعےبھارت بھجوانے کا الزام ہے، ورلڈ بینک مائیگریشن اینڈ رمیٹنس بک 2016 میں ذکر موجود ہے، رقم بھجوانے سے  بھارت کے غیرملکی ذخائربڑھے اور منی لانڈرنگ سے رقم بھجوانے پر پاکستان کونقصان اٹھانا پڑا۔


مزید پڑھیں: نواز شریف کے خلاف 4.9 بلین ڈالر بھارت بھجوانے کی شکایت


وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے منی لانڈرنگ کے الزامات کی تحقیقات کے لئے چیئرمین نیب کو طلب کرنے کا مطالبہ کیا تھا جبکہ میاں نواز شریف کی جانب سے چیئرمین نیب سے 24 میں معافی مانگنے، بہ صورت دیگر مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا۔

رکن قومی اسمبلی راناحیات نے اس حوالے سے نکتہ اعتراض اٹھایا، جس کا نوٹس لیتے ہوئے قائمہ کمیٹی نے چئیرمین نیب کو آج طلب کیا تھا ۔

جس کے بعدچیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے قائمہ کمیٹی قانون وانصاف میں پیش ہونے سے معذرت کرلی تھی ۔

بعد ازاں مسلم لیگ ن جاپان کے عہدے داروں کی جانب سے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی، جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ پریس ریلیز نواز شریف کوبدنام کرنے کے لیے جاری کی گئی، چیئرمین نیب سے غیر مشروط معافی مانگنے کا حکم دیا جائے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں