The news is by your side.

Advertisement

وزیراعظم سے درخواست کروں گا پانی کی قلت کا معاملہ دیکھیں، چیف جسٹس

اسلام آباد : جڑواں شہروں میں پانی کی قلت کیس میں سپریم کورٹ نے جنگی بنیادوں پر کابینہ کی میٹنگ کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس نے کہا آج رات کو بھی پانی کے معاملے کو دیکھیں گے،وزیراعظم سے درخواست کروں گا پانی کی قلت کامعاملہ دیکھیں۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جڑواں شہروں میں پانی کی قلت کیس کی سماعت ہوئی،سماعت میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے پانی سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کر دی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسلام آباد کو 120 ملین گیلن پانی یومیہ درکار ہے، شہر کوصرف 58.71 ملین گیلن پانی فراہم کیا جارہا ہے۔

جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ اسلام آباد کو کہاں کہاں سے پانی مل رہا ہے، رپورٹ آجاتی ہے، پیشرفت نہیں ہوتی، وزیراعظم سے درخواست کروں گا، پانی کی قلت اور بجلی کا معاملہ دیکھیں، وفاقی حکومت اب تک اپنے بندے پوری نہیں کرسکی ، کیا وفاقی حکومت پانچ لوگوں سے چل سکتی ہے؟

چیف جسٹس سپریم کورٹ نے کہا کہ اسلام آباد کے آدھے لوگ پانی سے محروم ہیں، اگر بارشیں نہیں ہوتیں تو لوگوں کو پانی کیسے ملے گا؟ اسلام آباد میں زیر زمین پانی،خان پورڈیم کاپانی بھی کم ہوچکا ہے، کوئی جگہ چھوڑی بھی ہے جہاں کنکریٹ نہ ہو، کنکریٹ ہونے سے زیر زمین ذخائر کو بارش کا پانی نہیں پہنچ پا رہا۔

جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ آئندہ بیس پچیس سال کیلئےپانی کی منصوبہ بندی کرنا پڑتی ہے، غفلت برتنےوالوں اور آج کےحالات کے ذمے
داروں کے نام بتائیں، جس پر نمائندہ ایم سی نے کہا کہ واجب الادارقوم مل جائیں توطویل مدتی منصوبوں پر کام شروع ہوسکتا ہے، ڈھائی سال میٹرو پولیٹن کارپوریشن کوایک روپیہ نہ ملا، سی ڈی اے سے پیسے لے کر تنخواہیں دے رہےہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سملی ڈیم اورخان پور ڈیم میں پانی کی سطح ڈیڈ لیول پرہے، شارٹ ،مڈاور لانگ ٹرم پالیسی کیسے بنانی چاہیے؟ 40 فیصد پانی کی لیکج کا ایشو ہے،حکومت ہمیں نظر آنی چاہیے ہم حکومت کو بلالیتے ہیں۔

جس پر نمائندہ واسا نے بتایا کہ قرض کے پیسے واسا بننے سے پہلے کے ہیں، تو چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ حکومت کو اس نہج تک پہنچانے والوں کوعدالت آنا ہوگا، نیب میں انکوائریاں کروائیں گے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل کہاں ہیں؟آج پہلا دن ہے وہ عدالت میں نہیں ، جنگی بنیادوں پر کابینہ کی میٹنگ کریں، آج رات کو بھی پانی کے معاملے کو دیکھیں گے، ہم رات تک بیٹھیں گے، فنڈز کے غلط استعمال پر کیوں نہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب کو بلالیں؟

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ مسئلے کودیکھیں اور اس کا حل تلاش کریں۔

دوران سماعت اعتزاز احسن نے عدالت کو تجویز دی کہ اسملی اور راول ڈیم کا ٹھیکہ دے دیں تو ٹھیکیدار ڈیمز کی مٹی نکالیں گے، اسلام ٹھیکے دار ادائیگی بھی کریں گے جبکہ زمرد خان نے تجویز دی حل کیلئے راولپنڈی اسلام آباد بار کے صدور کو شامل کریں۔

جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ بار کے نمائندے محترم ہیں، انھیں بھی شامل کر لیتے ہیں، اٹارنی جنرل کے دفتر میں بیٹھ کر مسئلے کا حل تلاش کریں، اعتزاز احسن کی قیادت میں بارز کے ذمہ داران بھی بیٹھیں۔

بعد ازاں عدالت نے سماعت آج ساڑھے 3بجے تک ملتوی کر دی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں