The news is by your side.

Advertisement

کس قانون کے تحت عمر قید کا مطلب 25سال لکھا گیا ہے؟ چیف جسٹس

اسلام آباد : عمر قید کی مدت کے تعین سے متعلق کیس میں پاکستان بار کونسل کی جانب سے کیس میں فریق بننے کی استدعا کردی، چیف جسٹس نے کہا کس قانون کے تحت عمر قید کا مطلب 25سال لکھا گیا ہے؟ رحم دلی اور قانون الگ چیزیں ہیں ،عدالت نے قانون پر فیصلہ دینا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آصف کھوسہ کی سربراہی میں 7رکنی لارجر بنچ نے عمر قید کے تعین سے متعلق کیس کی سماعت
کی ، سماعت میں پاکستان بار کونسل کی جانب سے کیس میں فریق بننے کی استدعا کی ، جس پر چیف جسٹس نے مسکراتے ہوئے استفسار کیا کیاپاکستان بار کونسل کو عمرقید ہوئی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا ہزاروں لوگ عمرقید کی سزا کاٹ رہے ہیں، آپ طے کر لیں کس کس نے اس حوالے سے بحث کرنی ہے، کیس کو بغیر وقفے کے سنیں گے، اس کیس میں ایک ہفتہ بھی لگ سکتا ہے، پاکستان بار کونسل دلائل کے لیے 2سے 3 افراد نامزد کرے۔

وکیل ذوالفقارخالد نے بتایا اس کیس میں2 ایف آئی آرہیں، تو چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ملزم نے پہلے دو قتل کیے پھر دس قتل کیے، درخواست گزارکے کیس میں تو نظر ثانی بھی خارج ہو چکی ، نظر ثانی خارج ہونے کے بعد دوبارہ جائزہ نہیں لیا جاسکتا ، جائزہ لیا تو ہزاروں کیس آئیں گے ،مقدمے بازی ختم نہیں ہوگی۔

جسٹس آصف کھوسہ نے کہا صرف عدالت خود سے اپنے فیصلے پر دوبارہ جائزے کا اختیار رکھتی ہے، درخواست گزار نظر ثانی کی بجائے عمر قید کی تعریف پردرخواست دے سکتا ہے۔

عدالت نے درخواست گزار کو پرانی درخواست واپس لےکرنئی جمع کرانے کی اجازت دے دی، چیف جسٹس نے کہا اس کیس میں ہم نے بہت محنت کی تھی ، کل رات 6 ممالک کے فیصلے پڑھ کر 3بجے سویا تھا، رحم دلی اور قانون الگ چیزیں ہیں ،عدالت نے قانون پر فیصلہ دینا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا وکیل آ ئندہ جیل رولز کی شق 140 پڑھ کر آ ئیں ، جیل رولز بناتے ہوئے پینل کوڈ کو تبدیل کردیا گیا ، کس قانون کے تحت عمر قید کا مطلب 25سال لکھا گیا ہے؟ آ ج سزا کی معیاد سے متعلق کوئی درخواست نہیں۔

عدالت نے عمر قید کے تعین سے متعلق کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں