The news is by your side.

Advertisement

میں پاکستان کا چیف جسٹس ہوں عوام کا نہیں،جس دن ملک پرشب وخون ماراگیامیں گھرچلاجاؤں گا ،چیف جسٹس

لاہور: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ میں پاکستان کا چیف جسٹس ہوں عوام کا نہیں، مجھے پاکستانی قوم کے چیف جسٹس کے طور پر فیصلے کرنےہیں، عوام کیلئےبنیادی حقوق کی جنگ لڑرہےہیں ، جس دن ملک پرشب وخون ماراگیامیں گھرچلاجاؤں گا۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ایوان اقبال میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمیں کسی خیرات یا تحفے میں نہیں ملا، پاکستان مسلسل جدوجہداوربزرگوں کی قربانیوں سےملا، یقین کریں وہ کچھ وقت گزارتے توپاکستان آج ایسا نہ ہوتا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ گزشتہ رات ایک کتاب موصول ہوئی جس کا سرورق پڑھا، ایک فیملی بھارت سے پاکستان آرہی تھی تو صرف ایک بچی زندہ بچ گئی، اس  بچی کانام کنیز تھا،مجھے جو کتاب موصول ہوئی وہ اسی نے لکھی تھی، اس بچی کنیز نےکتاب میں پاکستان حاصل کرنےکی جدوجہدبیان کی۔

پاکستان ہمیں کسی خیرات یا تحفے میں نہیں ملا، پاکستان مسلسل جدوجہداوربزرگوں کی قربانیوں سےملا

چیف جسٹس آف پاکستان

جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ قائداعظم اورعلامہ اقبال کی جدوجہد سے پاکستان حاصل کیا،جنہوں نے پاکستان کیلئے اتنی قربانیاں دیں کیا انہیں ہم چکنا چور کردیں، میری نظرمیں سب سےپہلی ترجیح صرف اورصرف تعلیم ہے، وہ قومیں دیکھ لیں جنہوں نےتعلیم کاراستہ اپنایاوہ کہاں پہنچ گئیں، تعلیم سےمتعلق میں کسی قسم کاسمجھوتہ نہیں کروں گا۔

انھوں نے سوال کیا کہ پنجاب یونیورسٹی کی زمین حکومت کودےدی گئی کیوں؟ زمین اس لیے دی گئی کیونکہ وہاں گرڈاسٹیشن تعمیرکرناہے، گرڈاسٹیشن ضروری ہے  یا تعلیم، بچوں کے مستقبل کاکیاہوگا، کسی ذاتی ایجنڈے پر چلنے والے پر لعنت بھیجتاہوں، میں صرف اور  صرف بچوں کی تعلیم کیلئےیہاں آیاہوں۔

چیف جسٹس نے اپیل کی خدا کا واسطہ بچوں سے تعلیم کا حق مت چھینو، ایک بچےسے پوچھا کیا بننا چاہتے تواس نے کہا ڈاکٹربنناچاہتاہوں، ہونہارطلبہ کوہم نے مشکل میں ڈال دیاہے، کیاتعلیم صرف پیسے اور  پیسے سے ہی حاصل کی جاسکتی ہے، تعلیم کیلئےآئینی ذمہ داری اداکرنےکیلئےتیارہوں، میری مددکریں اگر کامیاب نہ ہوا تو ساری زندگی خودکومعاف نہیں کرسکوں گا۔

خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں بغیرواش روم6ہزاراسکول چل رہےہیں، میں نےپوچھامعصوم بچیاں حاجت کیلئےکہاں جاتی ہیں، بتایاگیا بچیاں پیچھے کھیتوں میں حاجت کیلئےجاتی ہیں، ہمارےٹیکس کاپیسہ کہاں خرچ ہوتاہےکون اس  پرتوجہ دےگا، تعلیم حاصل کرناہماراحق ہےاس حق کو ہر صورت حاصل کریں، جووالدین اپنےبچوں کوتعلیم نہیں دیتےوہ مجرم ہیں۔

جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ انسان کی زندگی بڑی نایاب اور قیمتی ہے،انسان کیڑےمکوڑےنہیں، زندگی مارکھانے،قیدوبند،جہالت کیلئے نہیں دی گئی تھی،  زندگی اپنےحقوق کیلئےدی گئی ،جو حق مانگتاہے، اسے خاموش کرا دیا جاتا ہے، جن اسپتالوں میں گیا وہاں سی سی یو نہیں، اسپتالوں میں لیڈی ڈاکٹر موجود نہیں ، جو الٹراساؤنڈکرسکے، 1300دوائیاں اسپتالوں میں مفت تقسیم کرناچاہئیں، لیبارٹری ٹیسٹ والوں کوبھاری تنخواہیں دی جاتی ہیں، 1300میں سے1170دوائیاں ٹیسٹ کرلی گئیں، لیب والوں کوحکم دیاہے30دن کےاندرٹیسٹ رپورٹ دیں۔

کس میں ہمت ہے مارشل لا لگائے یہ قائداعظم اوراقبال کاپاکستان ہے .

چیف جسٹس آف پاکستان

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ میں نےحقوق کیلئےعلم بلندکیاہےکیامیں غلط کررہاہوں، عدلیہ مکمل آزاد ہےعوام کوان کے حقوق دلاکرجاؤں گا، کوئی بھی فیصلہ کرتےہیں تو شور ا ٹھتاہے، مارشل لامارشل لا، کس چیز کا مارشل لاکون لگائےگا ، مارشل لاکس میں ہمت ہے، یہ قائداعظم اوراقبال کاپاکستان ہے، پہلےبھی کہہ چکاہوں جس دن مارشل لگا میں چلا جاؤں گا۔

انھوں نے کہا کہ جوڈیشل مارشل لالگانےکی باتیں کرنےوالےاپنے ذہن صاف کریں جوڈیشل مارشل لاکاآئین میں کوئی وجودنہیں ہے، عوام کی حمایت سے انصاف کے فیصلے کررہے ہیں، جس دن عوامی حمایت ختم ہوجائے گی عدلیہ چلی جائے گی۔

جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ کیا کوئی اپنے ملک کی بےقدری کرتاہے؟ ووٹ کی عزت کی قدریہ ہے آئین مطابق عوام کی خدمت کریں، عوام کیلئے بنیادی حقوق کی جنگ لڑ رہےہیں ، جس دن ملک پر شب وخون مارا گیا میں گھرچلاجاؤں گا، ہرادارے اور شخص کی ذمہ داری ہےوہ انصاف فراہم کریں، ادارے اور شخصیات لوگوں کو تکلیف پہنچاتےہیں اس لیے وہ عدالت آتےہیں۔

انھوں نے سوال کیا کہ “کیاانصاف فراہم کرنےکی ذمہ داری صرف عدلیہ کی ہے”، اس ملک میں اوربھی ادارےہیں انصاف دیناسب کی ذمہ داری ہے، مجھے معلوم  ہے، اس وقت کتنے ججز کے پاس کتنے کیسز  زیر التوا ہیں، بڑے بھائی کی حیثیت سے منتیں کررہاہوں کیسز کو جلد نمٹائیں، انصاف کمپیوٹر سے نہیں عقل سے ہوناہے، انصاف جدید تقاضوں کےمطابق فراہم کررہےہیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہم نےجس قانون کےمطابق انصاف دیناہےاس پرتوجہ دی گئی؟ عرصہ پرانےقانون ہیں اورجدیدتقاضوں کاانصاف چاہتےہیں، عدلیہ کو  وسائل کس نے فراہم کرنےہیں؟ میں پاکستان کا چیف جسٹس ہوں عوام کا نہیں، میں نے پاکستانی قوم کے چیف جسٹس کے طور پر فیصلے کرنےہیں

میں پاکستان کا چیف جسٹس ہوں عوام کا نہیں،جس دن ملک پرشب وخون ماراگیامیں گھرچلاجاؤں گا

چیف جسٹس آف پاکستان

جسٹس ثاقب نثار نے مزید کہا کہ ہمارےادارےکی خوبصورتی یہی ہےکہ دباؤقبول نہیں کرتے، کبھی وکیل نہیں آتاتوکبھی مجرم کوپیش نہیں کیاجاتا، مختلف وجوہات ہیں، جس کی وجہ سے کیسز تاخیر کا شکار ہو رہے ہیں، مختلف مسائل کی وجہ سے کیسز تاخیر کا شکارہوتےہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کہا جاتا ہے میرٹس اورسنیارٹی پرتعیناتیاں نہیں ہوتیں پھر میرٹس اور سنیارٹی پر تعیناتیاں کس نےکرنی ہیں؟ خودکوکسی ذمہ داری سےالگ نہیں کرنا چاہتا، ایک جج کوایک کیس ڈیل کرنےکیلئے 3 منٹ ملتے ہیں، لوگوں کوبنیادی حقوق نہیں ملیں گے توعدالت ہی آئیں گے، مجھےبتائیں جونیچےکام ہو رہا ہے،اس کاجواب کون دے گا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اپنےدوستوں سےکہاہےمیں اپنی تنخواہ چھوڑنےکیلئےتیارہوں، میں اس وقت انصاف فراہم کرنےکاکام کررہاہوں، میں ملک اورقوم کا چیف جسٹس ہو، اس کاعوام سےکوئی تعلق نہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں