The news is by your side.

Advertisement

ہم مردہ لوگ نہیں، کوئی بنیادی حقوق کیلئے کھڑا نہیں ہوتا تو کیا عدلیہ بھی ایکشن نہ لے، چیف جسٹس

لاڑکانہ: چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ میری کوشش ہوتی ہے کہیں ناانصافی نہ کی جائے، ہم مردہ لوگ نہیں، کوئی بنیادی حقوق کیلئے کھڑا نہیں ہوتا تو کیا عدلیہ بھی ایکشن نہ لے۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے لاڑکانہ ہائی کورٹ بار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لاڑکانہ بار اور جج صاحبان کا شکر گزارہوں، یقین دلاتا ہوں تمام سوموٹو ایکشنز میں بدنیتی نہیں، میرے ہر سوموٹو ایکشن میں ایک مقصد انصاف ہوتا ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آزادی سے جینے کا حق بنیادی انسانی حقوق میں شامل ہے، انسانی زندگی کو ایک بوجھ نہیں بنناچاہیے، ہماری زمین پوری کائنات میں الگ ہے۔

اپنے خطاب میں جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ صاف پانی سے متعلق میرے اقدامات جینے کے حق کے لئے ہیں، سندھ کے لوگوں کو صحت کی بہتر سہولتیں میسر  نہیں، تعلیم کے بغیرکوئی ملک ترقی نہیں کرسکتا۔


مزید پڑھیں :  ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ لاڑکانہ کا دورہ ، چیف جسٹس نے غصے میں جج کا موبائل پٹخ دیا


ان کا کہنا تھا کہ میری کوشش ہوتی ہے کہیں ناانصافی نہ کی جائے، جوڈیشل سسٹم کا صرف ایک مقصد انصاف فراہم کرنا ہوتا ہے، بہت جلد میرے اقدامات کے مثبت نتائج نظرآئیں گے، عوام کو بتاؤں گا ان کے بنیادی حقوق کیا ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ چاروں صوبوں میں اسپتالوں کی حالت بہترہورہی ہے، اسپتالوں میں آلات،دواؤں اورکام کی ضرورت ہے، ہم مردہ لوگ نہیں، کوئی بنیادی حقوق کیلئے کھڑا نہیں ہوتا تو کیا عدلیہ بھی ایکشن نہ لے۔

جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ سندھ میں لوگوں کی صحت کوخدشات ہیں، امیرہانی مسلم کی رپورٹ پرعمل نہ ہواتویہ بری خبرہے، افسوس ہے ہم اچھے ڈاکٹرز پیدا نہیں کرسکے، پنجاب میں بچوں سے زیادہ فیس وصول کی گئی جو واپس کرائی، لاڑکانہ میں جوعزت ملی اس پرکئی مرتبہ کہا کاش بلوچ یا سندھی ہوتا۔

انھوں نے کہا کہ آنے والے وقت میں پانی بحران ہم سے سنبھالا نہیں جائے گا، میں نے پانی کی قلت کے خلاف مہم شروع کردی ہے، پانی کے مسئلے کیلئے جھولی بھی پھیلانی پڑی تو ضرور پھیلاؤں گا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہربچہ ایک لاکھ 70ہزارکامقروض ہے، لوگ توآسانیاں بنا کر جاتے ہیں، ہم کیا چھوڑ کر جا رہے ہیں، ہم نے مایوسی کے اندھیروں میں نہیں جانا، دنیا میں بہت سی قوموں نے کامیابی سے بحرانوں کا سامنا کیا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں