ملک میں بہت کچھ ٹھیک کرنےکی ضرورت ہے ،چیف جسٹس ثاقب نثار
The news is by your side.

Advertisement

ملک میں بہت کچھ ٹھیک کرنےکی ضرورت ہے ،چیف جسٹس ثاقب نثار

راولپنڈی : چیف جسٹس سپریم کورٹ ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ ملک میں بہت کچھ ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے، اسپتالوں کی حالت یہ ہے کہ ایک بیڈپرتین تین مریض ہوتےہیں، ہرکام میرٹ پرکریں گے تو اس کافائدہ سالہاسال تک ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس سپریم کورٹ ثاقب نثار راولپنڈی میں انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی پہنچے، چیف جسٹس آر آئی سی میں سیمینار کے مہمان خصوصی تھے ، جہاں انھیں دماغ کی شریانوں میں اسٹنٹ ڈالنے پرآگاہی فراہم کی گئی۔

چیف جسٹس نے انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی راولپنڈی میں تقریب سےخطاب کرتے ہوئے کہا افسوس ہے اسپتالوں میں مریضوں کے لئے صحت کی معیاری سہولتیں دستیاب نہیں، محنت کرکے مایوسی کی زندگی سے بچا جاسکتاہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہرکام میرٹ پر کریں گےتواس کافائدہ سالہاسال تک ہوگا، سروسزاسپتال کےمختلف شعبوں کو ادویات کی کمی کے مسائل ہیں، ملک میں بہت کچھ ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔

ہرکام میرٹ پرکریں گے تو اس کافائدہ سالہاسال تک ہوگا

جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا اسپتالوں کی حالت یہ ہےکہ ایک بیڈ پر3، 3 مریض ہوتے ہیں، اسپتالوں کے معیار کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے، سفارشی کلچر ختم  ہوناچاہیے اور تمام کام میرٹ پر ہونے چاہئیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں طبی سہولتیں صرف صاحب ثروت افرادکوحاصل ہیں،  طبی سہولتوں سے متعلق قانون سازی میں کردارکی کوشش کی، پنجاب کے اسپتالوں کی حالت ناگفتہ دیکھی، ججزبھی اسپتالوں کی بہتری کے لیے معاونت  فراہم کرتےرہےہیں۔

چیف جسٹس نے کہا خیبرپختونخواکےاسپتال میں ایک بسترپر3،3مریض دیکھے، طبی سہولتوں کی مخدوش صورتحال ریاست کی ناکامی ہے، صحت کی سہولتوں کی بہتری کےلیے عوامی شعورکی کوشش کی ہے، صحت کی سہولتوں کے لیے فنڈز فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرصحت کی فراہمی کے نظام کا اہم جزو ہیں، صحت کے نظام کو بہتر بنانے کے لئے میڈیکل کالجز کا معیار بہتر کرنا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں