آئندہ نسلوں کو بچانے کے لیے ڈیم کے سوا کوئی راستہ نہیں، چیف جسٹس
The news is by your side.

Advertisement

آئندہ نسلوں کو بچانے کے لیے ڈیم کے سوا کوئی راستہ نہیں، چیف جسٹس

اسلام آباد: چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ڈیمز کی اشد ضرورت ہے، آئندہ نسلوں کو بچانے کے لیے ڈیم کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے ٹی وی پر اپنے پہلے انٹرویو میں کہا کہ کوئٹہ میں کیس کی سماعت میں پتہ چلا پانی کی سطح بہت نیچے چلی گئی اور گھروں کو ٹینکرز کے ذریعے سپلائی پانی مہنگا ہے، پانی سے متعلق اور کوئی ذرائع نہیں تھے جو خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں، سماعت کے بعد اسلام آباد واپس آیا تو چیئرمین واپڈا نے بریفنگ دی۔

ڈیم نہ بننے کے کئی وجوہات ہیں، عوام سے شیئر نہیں کرسکتا

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہم آج تک پانی سے متعلق اپنے حق سے محروم ہیں، سندھ طاس معاہدے کے تحت ہمیں پورا پانی نہیں مل رہا، پانی کی کمی کو ڈیم سے ہی پورا کیا جاسکتا ہے۔

جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ ڈیم نہ بننے کے کئی وجوہات ہیں، عوام سے شیئر نہیں کرسکتا، ڈیم تعمیر نہ کرکے مجرمانہ غفلت کا بھی مظاہرہ کیا گیا، 40 سال سے ڈیم کیوں نہیں بنے اس معاملے کو دیکھنا چاہئے۔

ان کا کہنا تھا کہ حالیہ سیمینار میں بھی وزیراعظم عمران خان سے کہا تھا کہ ڈیمز نہ بنانا مجرمانہ غفلت ہے اور اس کو دیکھنا چاہئے، کالا باغ ڈیم جیسے ایشو کھڑے کیے گئے، عوام کو ڈیمز بنانے میں رکاوٹ ڈالنے والوں کا پتہ چلنا چاہئے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ڈیمز بنانے سے متعلق فنڈز کی کمی تھی انشا اللہ پوری ہوجائے گی، عوام فنڈز دینے میں آگے رہے ہر شخص نے اپنا کردار ادا کیا، ڈیمز سے متعلق سمجھ رہا 9، 10 سال لگیں گے، اللہ نے آسانیاں پیدا کردیں، چند دنوں میں فنڈز کے مسائل حل ہوگئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈیمز کے لیے زمینوں کا معاملہ آیا تھا وہ بھی کافی حد تک حل کرلیا گیا، جس علاقے میں ڈیمز بننا تھے وہاں زمینوں کے مسائل حل ہوگئے۔

امید ہے 5 سے 7 سال کے دوران ڈیم مکمل ہوجائے گا

چیف جسٹس

اوورسیز پاکستانیوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں نے ہمیشہ اپنے ملک کی ہر حالت میں سپورٹ کی، ان کے جذبات کی قدر کرتا ہوں، برطانیہ میں تو فنڈز ریزنگ کی تقریب میں لوگوں کی تعداد زیادہ تھی جبکہ مانچسٹر میں لوگ ہال کے باہر تقریب میں آنے کے لیے انتظار کررہے تھے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کبھی نہیں سوچا تھا میری چھوٹی سی کاوش اتنی بڑی تحریک بن جائے گی، چھوٹے بچوں نے فنڈریزنگ میں بھرپور حصہ لیا، بزرگوں کو بھی دیکھا، خواجہ سرا جو خود مشکل سے گزارا کرتے ہیں 2 لاکھ فنڈز دے کر گئے، ایک صاحب تو اپنی پوری پنشن دے کر چلے گئے، ٹوٹے ہوئے جوتے والے شخص کو دیکھا جس نے ڈیم فنڈ میں پیسے دئیے۔

ان کا کہنا تھا کہ امید ہے 5 سے 7 سال کے دوران ڈیم مکمل ہوجائے گا، اوورسیز پاکستانیوں نے دل کھول کر فنڈز ریزنگ میں حصہ لیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں