چیف جسٹس کا بیرون ملک جائیدادیں رکھنے والے کم ازکم 20 افراد کو پیش کرنے کا حکم
The news is by your side.

Advertisement

چیف جسٹس کا بیرون ملک جائیدادیں رکھنے والے کم ازکم 20 افراد کو پیش کرنے کا حکم

اسلام آباد : بیرون ملک اکاؤنٹس کیس میں چیف جسٹس نے بیرون ملک جائیدادیں رکھنے والے کم ازکم بیس افراد کو پیش کرنے کا حکم دے دیا اور کہا یہ لوگ اس ملک کے دشمن ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں پاکستانیوں کے بیرون ملک اکاؤنٹس سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ، چیئرمین ایف بی آرعدالت میں پیش ہوئے۔

عدالت نے چیئرمین ایف بی آرسے گرے کمیونی کیشن سے متعلق سوال کیا کہ آپ بھارتی ڈی ٹی ایچ کی اسمگلنگ روکنے کے لیے کیا کر رہے ہیں، چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ ممبرکسٹم آرہے ہیں وہ اس بارے میں بتائیں گے۔

اٹارنی جنرل نے پیشرفت رپورٹ کی ایگزیکٹوسمری عدالت میں جمع کرادی، اٹارنی جنرل نے بتایا کہ جوکام ہورہا ہے اس پرمیں مطمئن نہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا ایف آئی اے نے بتایا 1 ہزار ارب کے اکاؤنٹس،جائیدادوں کی شناخت ہوئی ، آپ صرف 100 لوگوں کا بتا دیں ان کو میں بلوا لوں گا ، وہ لوگ اس ملک کے دشمن ہیں۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کچھ پیشرفت ہوئی ہےکچھ مزیدوقت چاہیے، جس پر چیف جسٹس نے کہا بشیرمیمن نے کہا 1000ارب کی جائیدادوں کی نشاندہی ہوگئی، ان جائیدادوں کو واپس لانا کس کی ذمہ داری ہے، ن میں سے 100 لوگوں کوعدالت میں حاضر کریں۔

چیف جسٹس نے کہا بر طانیہ کی جائیدادوں، اثاثوں کا بتایا، دبئی کا بتائیں، اٹارنی جنرل نے بتایا کہ دبئی کی فہرست آج جمع کرادی ہے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کون سے ایسے 20 لوگ ہیں جن کو ہم بلا کر پوچھیں، پوچھیں گے بھائی آپ نے یہ جائیدادیں کیسے بنائیں۔

ڈی جی ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ 150 لوگوں کی یواے ای کی فہرست بھی ہے، ان لوگوں نے اپنی جائیدادوں کو تسلیم کیا ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا آپ ہزار ارب کی بات کر رہے ہیں، آپ کواہمیت کااندازہ ہے ، ایک ہزار ارب سے ہمارا ڈیم بن سکتا ہے۔

ڈی جی ایف آئی اے نے مزید بتایا کہ کل 894میں سے 374 نے ایمنسٹی اسکیم میں اثاثے، جائیدادیں ظاہرکیں، 150لوگوں نےحلف نامے جمع کرائے 69 نے کہا ٹیکس ریٹرن میں اثاثے، جائیدادیں ظاہر کردیں جبکہ 89 لوگوں نے جائیدادوں اور اثاثوں سے لاتعلقی ظاہر کی اور 99 نے جواب نہیں دیا۔

ڈی جی ایف آئی اے نے کہا ایمنسٹی اسکیم کے باعث ڈھائی ماہ ہم نے کام نہیں کیا کہ لوگ خود بتادیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا طارق باجوہ صاحب ہمیں بتائیں آگے کا راستہ کیا ہے، اگرہم نے کچھ کرنا ہے تو کریں ورنہ معاملہ حکومت کے سپرد کردیں۔

گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کلہ معاملہ شرو ع ہونے اور اب کےحالات بدل چکے ہیں ،اب ملک سے پیسہ باہر لے جانا پہلے کے مقابلے میں مشکل ہے ، یقینی طور پر بہتری آئی ہے جو صرف عدالت کی وجہ سے آئی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا اٹارنی جنرل صاحب جو غیر قانونی طور پر رقم باہر لے گئے ان پر پرچے دیں، اندرکریں، جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق ہم ان کو فوری گرفتار نہیں کر سکتے ، جنہوں نے اثاثے ظاہر نہیں کئے ان کے خلاف ٹیکس کےعملے کو متحرک کریں گے۔

دوران سماعت چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جن 150 لوگوں نے اثاثے تسلیم کئےان میں سے 10 کو لے آئیں ، جس پر ڈی جی ایف آئی اے نے کہا بیرون ملک جائیدادوں والے ہیں، اکاؤنٹس والے نہیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کیا عدالت قانون کے مطابق کسی کی بینک تفصیلات طلب کر سکتی ہے، کیا ان بینکوں کی بیرون ملک برانچوں سے تفصیلات طلب کر سکتے ہیں، گورنر اسٹیٹ بینک نے جواب میں کہا وہ برانچیں پاکستان کی حدودمیں نہیں آتیں۔

جسٹس ثاقب نثار نے مزید کہا برطانیہ نےصرف جائیدادوں کی تفصیلات دی ہیں، کسی بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات نہیں دیں، طارق باجوہ نے بتایا کہ برطانیہ سےمعلومات کے تبادلے کا معاہدہ یکم ستمبر سے مؤثر ہواتھا، جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا اس معاہدے کے تحت اب تک کیا معلومات نکالی ہیں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا حکومت پاکستان نےاثاثوں کی ریکوری کیلئےیونٹ قائم کر دیا،عدالت نے حکم دیا کہ آئندہ سماعت پر 20 ایسے لوگوں کو عدالت میں پیش کیا جائے، جنہوں نے بیرون ملک جائیدادیں بنا رکھی ہیں۔

بعد ازاں سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت یکم نومبر تک ملتوی کردی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں