The news is by your side.

بنی گالہ کو منصوبہ بندی کے تحت بنانا ہے تو تعمیرات خریدنا پڑیں گی،چیف جسٹس

اسلام آباد : چیف جسٹس نے بنی گالہ کیس میں کہا ہے کہ بنی گالہ کو منصوبہ بندی کے تحت بنانا ہے تو تعمیرات خریدنا پڑیں گی، مالکان کو ازالہ اداکرنا پڑے گا اور ریگولرائزیشن کے لیے مالکان کو پیسے دینا ہوں گے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بنی گالہ تجاوزات کیس کی سماعت کی، سماعت میں چیف جسٹس نے کہا کہہ چکےجن 65 افراد نے درخواستیں دیں ان کی تعمیرات ریگولر کریں، منصوبہ بنا کر دیں باقی ریگولرائزیشن کیسےہونی ہے، منصوبہ بنا کر دیں ہم مقدمہ نمٹا دیں گے۔

دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے سی ڈی اے کی جانب سے رپورٹ پیش کردی، جس میں بتایا گیا 1960 کے نقشے کے مطابق زون 4 میں سڑکیں ہیں، 1992 اور 2010 میں ترمیم کی گئی، زون 4 کے کچھ علاقے میں نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز کو بھی اجازت دی گئی، سرسبز علاقہ موجود ہے، جس کو بچایا جاسکتا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا آپ نے اس علاقے میں سڑکیں اور سیوریج بنانی ہیں، ممکن ہےآپ زیرزمین بجلی کی لائنزبچھائیں، اس کےلیےبھی زمین چاہیے کیونکہ بہت ہی نیاپاکستان بن رہاہے، ممکن ہےآپ زیرزمین ٹرین بھی چلاناچاہیں۔

بنی گالہ میں سہولتوں کےلیےزمین چاہیے، سی ڈی اےنےابھی تک کوئی پلان جمع نہیں کرایا، کیوں نا جرمانہ لے کر تعمیرات کوریگولائزکردیں، بنی گالہ کومنصوبہ بندی کےتحت بناناہےتوتعمیرات خریدنی پڑیں گی، مالکان کوازالہ اداکرناپڑےگا اور ریگولرائزیشن کے لیے مالکان کو پیسے دینا ہوں گے۔

عدالت نے سروےجنرل آف پاکستان کو ایک مہینے میں ادائیگی کرنے کا بھی حکم دیا۔

مزید پڑھیں : سپریم کورٹ کا وزیراعظم عمران خان سمیت 65 افراد کی تعمیرات ریگولرائز کرنے کا حکم

یاد رہے گذشتہ سماعت میں سپریم کورٹ نے بنی گالامیں عمارتوں کی ریگولرائزیشن سے متعلق کیس میں وزیراعظم عمران خان سمیت 65 افراد کی تعمیرات ریگولرائز کرنے کا حکم دیا تھا۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں انکشاف کیا بنی گالامیں زلزلے سے بچاؤ کی تدابیر کئے بغیر عمارتیں تعمیر کی گئیں، چیف جسٹس کا کہنا تھا میں حیران ہوتاہوں سی ڈی اےمیں کیاہورہا ہے، سی ڈی اے والے اب ہی کچھ کرلیں، جب یہ عمارتیں بن رہی تھیں سی ڈی اےکہاں تھا؟ انصاف کرنا صرف عدالتوں ہی کا کام نہیں، خدا نخواستہ زلزلہ آتاہےتوبڑی عمارت تباہ ہوسکتی ہے۔

سماعت کے موقع پرریگولرائزیشن کمیٹی نے تفصیلات دینے کے لیے دس دن کا وقت مانگا جس پر عدالت نے 10 روز کی مہلت دی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں