The news is by your side.

Advertisement

دل کرتاہے ڈیمز بنانے اور ملک کا قرضہ اتارنے کے لیے چولا پہن کر چندہ مانگوں،چیف جسٹس

اسلام آباد:چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے پانی کی کمی سےمتعلق کیس میں ریمارکس میں کہا نوازشریف اورزرداری نے اپنے ادوار میں کچھ نہیں کیا، دل کرتا ہے ڈیمز بنانے اور ملک کاقرضہ اتارنے کے لیے چولہ پہن کر چندہ مانگوں۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں پانی کی کمی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ،سماعت میں میٹروپولیٹن حکام اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل پیش ہوئے۔

ڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ دارالحکومت کو 58.7 ملین گیلن پانی سپلائی کیا جارہا ہے، پانی کی طلب 120 ملین گیلن سے بھی زیادہ ہے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کراچی کے بعد اسلام آباد میں بھی ٹینکرز کا پانی فروخت ہورہا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں مزید کہا دل کرتا ہے ڈیمز بنانے اور ملک کا قرضہ اتارنے کے لیے چولہ پہن کر چندہ مانگوں، نواز شریف اور زرداری نے اپنے ادوار میں کچھ نہیں کیا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ووٹ کو عزت دو کا مطلب یہ ہے لوگوں کو بنیادی حقوق دیے جائیں، بلی کی طرح آنکھیں بند نہیں کر سکتے،عملی طور پر کچھ کرنا ہوگا۔

جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ اربوں کا پانی ہم منرلز کے ساتھ سمندرمیں ضائع کررہےہیں، پانی کے مسئلے پر آنکھیں بند نہیں کر سکتے، اعتزاز احسن آپ چند روز میں پانی کے معاملے پر پالیسی بنا کر دیں۔

درخواست گزار نے کہا کہ طارق فضل چوہدری نوسربازہے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ 20 مرتبہ طارق فضل چوہدری کو بلایا ہے، اسلام آباد میں پانی کے ڈیمز نہ بنانے پر شور مچا ہے۔

عدالت نے اعتزاز احسن کو عدالتی معاون مقرر کردیا اور کہا اعتزاز احسن پینے کے پانی کے ذخیرہ پر رپورٹ مرتب کر کے دیں، پانی کا مسئلہ مستقبل میں خطرناک ناسور بن سکتا ہے۔

عدالت نے پانی کے مسئلے پر اعتزاز احسن سے 21جون تک رپورٹ طلب کرلی۔

سپریم کورٹ نے ملک ابرارا، زمرد خان، چیف کمشنر اسلام آباد، آفیسرز کنٹونمنٹ بورڈ اور چیئرمین سی ڈی اے کو طلب کرلیا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں