The news is by your side.

Advertisement

ہم رہیں نہ رہیں، ڈیم ضرور بنے گا، چیف جسٹس

اسلام آباد : کالا باغ ڈیم کے معاملے پر چیف جسٹس نے کہا کہ ڈیم بنانے کے علاوہ ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں، ہمیں مزید ڈیمز چاہییں، نئے ڈیم کا نام پاکستان ڈیم ہوگا، ہم رہیں نہ رہیں، ڈیم ضرور بنے گا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے متعلق سماعت ہوئی، دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ شمس الملک اور اعتزاز احسن کو معاونت کا کہا ہے، کالا باغ ڈیم کا مسئلہ اتنا سادہ نہیں۔

سابق چیئرمین واپڈا شمس الملک کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں ڈیم بنانا چیف جسٹس کا کام نہیں، چیف جسٹس کےعلاوہ کوئی اورانصاف نہیں کر سکتا، چین کا ایک ڈیم 30 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرتا ہے، بھارت 4500 ڈیم تعمیر کر چکا ہے۔

شمس الملک نے کہا کہ کالا باغ ڈیم کے مخالف میری بات تسلیم کرتے ہیں، کالا باغ ڈیم کے مخالفین کہتے ہیں انہیں پنجاب پر اعتماد نہیں ، کے پی کے کو تربیلا ڈیم سے 4 اور سندھ کو 70 فیصد پانی ملتا ہے جبکہ بلوچستان کو6 اور پنجاب کو 20 فیصد پانی ملتا ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا پاکستان کی پانی کے بغیر بقا ممکن ہے؟ پاکستان ڈیم نہیں بنائے گا تو 5سال بعد پانی کی صورتحال کیا ہوگی؟ جس پر شمس الملک نے بتایا کہ 86فیصد پانی دریاؤں میں سیلاب کی صورت میں آتا ہے۔

جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ پاکستان اور کوئٹہ کے لوگوں کو خوفزدہ نہیں کرنا چاہیے، کوئٹہ میں زیر زمین پانی کی سطح خطر ناک حد تک گر چکی ہے ، پانی کے مسئلے کے حل کے لیے کیا اقدامات کرنے ضروری ہیں؟

سماعت میں چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا پاکستان پانی کے بغیر زندہ رہ سکتا ہے؟ ڈیم نہیں بنتاتو 5سال بعد ملک میں پانی کی صورتحال کیا ہوگی؟

جسٹس ثاقب نثار نے نئے ڈیم کا نام پاکستان ڈیم قرار دے دیا اور کہا کہ ڈیم بنے سے چار بھائیوں (صوبوں) کو فائدہ ہوگا، سمینار اور تقاریب منعقد کرکے ڈیم بنانے کے لیے گفتگو کرنی چاہیے، ڈیم بنانے کےعلاوہ ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں، بھارت4 ہزار، چین 22 ہزار ڈیم بناتا ہے، انہیں دنیا کچھ نہیں کہتی۔

سابق چیئرمین واپڈا نے عدالت کو بتایا کہ 196ارب کا نقصان کالا باغ ڈیم نہ بنانے سے ہو رہا ہے، منگلا اور تربیلا ڈیم سے ڈیڑھ روپے فی یونٹ بجلی بن رہی ہے، تیل کے ذریعے بجلی بہت مہنگی بن رہی ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دئے کہ شمس الملک صاحب ڈیم نےبننا ہے، ہم رہیں نہ رہیں لیکن ڈیم ضرور بنے گا، یا قوم کو بچائیں یا اپنے مفادات کو بچائیں، سندھ میں پینے کے پانی کا معیار بہت خراب ہے، ہمیں پاکستان ڈیم بنانے کے لئے حل چاہیے، ہمیں ڈیمز چاہییں۔

جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا ڈیم نہ بنانے والے ذمے داران کون ہیں؟ 10سال سیاسی جماعتوں نے حکومتیں کیں، پیپلزپارٹی اورن لیگ حکومتوں نے10 سال میں کیا اقدامات کیے؟

چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں ڈیم بنانے کے لیے ٹیم دیں، میں اس ٹیم کو کمرے میں بٹھا کر پوپ کی طرح باہر سے کنڈی لگادوں گا، جب تک مسائل کا حل نہ نکلے کمرے سے باہر نہیں جانے دیں گے، ہمیں ڈیم بنانے کے لیے ایسی ٹیم چاہیے جو ایماندار ہو۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں