قرضے معاف کرانے والوں نے زندگی بنا کر آخرت خراب کرلی ہے، چیف جسٹس
The news is by your side.

Advertisement

قرضے معاف کرانے والوں نے زندگی بنا کر آخرت خراب کرلی ہے، چیف جسٹس

کراچی : چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کراچی میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کیخلاف کیس میں ریمارکس دیئے کہ لوگوں نےقرضے لےکرمعاف کرادیے، ایسےمظلوم بنتے ہیں جیسے ان کے پاس کھانے کو نہیں، قرضے معاف کرانے والوں نے زندگی بنا کر آخرت خراب کرلی ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کیخلاف کیس کی سماعت  ہوئی۔

عدالت نے کے الیکٹرک کو حلف نامہ جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ بتایا جائے کے الیکڑک کب کیسے بجلی استعداد میں اضافہ کرے گی اور کب تک کراچی میں لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ممکن ہوسکے گا۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ حلف نامے کے بعد بہتری نہ آئی تو سخت کارروائی کریں گے، آخر کراچی کے عوام کب تک لوڈ شیڈنگ کے عذاب بھگتیں گے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کے الیکٹرک لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لیے کیا کر رہی ہے، معلوم ہے بجلی کی کمی کے باعث کتنی صنعتیں متاثر ہو رہی ہیں۔

غیراعلانیہ طویل لوڈشیڈنگ کے خلاف کیس میں چیف جسٹس کے ریمارکس دئے کہ لوگوں نے قرضے لے کر معاف کرا دیے، ایسےمظلوم بنتے ہیں، جیسے ان کے پاس کھانے کو نہیں، تحقیقات کرالوں تو بی ایم ڈبلیو اور نجانے کون سی گاڑیاں نکلیں۔

جسٹس ثاقب نثار نے مزید کہا کہ قرضے معاف کرانے والوں نے زندگی بنا کر آخرت خراب کرلی، میں نہیں سپریم کورٹ چاہتی ہے یہ قوم مقروض نہ رہے، اس وقت بھی جو بچہ پیدا ہوا ایک لاکھ 17 ہزار روپے کا مقروض ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ میں اس ملک کے لیے وکلا سے پیسے لوں گا اور خود بھی دوں گا، میں نے سوچ رکھا ہے، اس ملک پر سب نچھاور کرنا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں