ماہرنے کہا منرل واٹر سے اچھا دریا کا پانی پینا ہے، چیف جسٹس
The news is by your side.

Advertisement

ماہرنے کہا منرل واٹر سے اچھا دریا کا پانی پینا ہے، چیف جسٹس

پلاسٹک بوتل فوڈ گریڈ سے نہیں بنی ہوتی, رپورٹ میں انکشاف

اسلام آباد : منرل واٹر کیس میں کمیٹی رپورٹ میں چونکا دینے والے انکشاف کیا کہ پلاسٹک بوتل فوڈ گریڈ سے نہیں بنی ہوتی، چیف جسٹس نے کہا کراچی میں ایک گھنٹے میں بیس ہزارٹن پانی نکالاجارہاہے، ماہرنے کہا نام نہاد منرل واٹر کمپنی سے اچھا دریا کا پانی پینا پسند ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں منرل واٹرزازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی ، سماعت میں کمیٹی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا پلاسٹک بوتل فوڈگریڈ سے نہیں بنی ہوتی۔

جس پرچیف جسٹس نے کہا لو اور سنو، دھوپ میں پلاسٹک کاکیمیکل بھی پانی میں شامل ہوتارہتا ہے، کمپنیاں اربوں کمارہی ہیں حکومت کوایک ٹکہ دینے کو تیار نہیں۔

سرکاری وکیل نے دلائل میں کہا ہمیں معلوم نہیں ایکوافر کی کس علاقے میں کیا پوزیشن ہے، عدالت واپڈاکوہدایت کرے کہ ڈیٹا فراہم کرے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا ہماری واٹرکانفرنس میں شرکت کی ہوتی توآپ کومعلومات مل جاتی، ایکوافر کے بارے میں چینی ماہرین نے کام کیا ہوا ہے۔

جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ کراچی میں منرل واٹرکمپنی کا پلانٹ دیکھنےگیا، منرل واٹرکمپنی کومفت پرلیزدی گئی، کمپنی سے پانی کا نمونہ حاصل کیا وہ معیاری نہیں تھا۔

چیف جسٹس نے کہا منرل واٹرکمپنی کاپانی کاپوراپلانٹ معیاری نہیں تھا، ماہر نے کہا نام نہاد منرل واٹر کمپنی سے اچھا دریا کا پانی پینا پسند ہے، کراچی میں ایک گھنٹے میں 20ہزار ٹن پانی نکالا جارہا ہے۔

مزید پڑھیں : منرل واٹر کمپنی کا پانی پینے کے لائق نہیں ، چیف جسٹس

یاد رہے گزشتہ سماعت میں سپریم کورٹ نے زیر زمین پانی نکال کر فروخت کرنے والی کمپنیوں، وفاقی حکومت اور چاروں صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا تھا۔

عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ منرل واٹر کمپنی کا آڈٹ مکمل ہونے تک کمپنی کی سی ای او عدالت میں موجود رہیں، آڈٹ سپریم کورٹ کی عمارت میں ہو گا۔

اس سے قبل سماعت میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے عوام سے التجا کی تھی کہ منرل واٹرپینا بند کر دیں، نلکے کا پانی ابال کر پئیں، اللہ کے فضل سے کچھ  نہیں ہوگا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں