تھر وہ جگہ ہے جہاں پورے ملک میں ملنے والا ہر نشہ ملے گا‘ رمیش کمار -
The news is by your side.

Advertisement

تھر وہ جگہ ہے جہاں پورے ملک میں ملنے والا ہر نشہ ملے گا‘ رمیش کمار

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں غذائی قلت سے بچوں کی اموات سے متعلق کیس میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عوام کی زندگی کا معاملہ ہے چیف سیکریٹری اوروزیراعلیٰ سندھ کوبلا لیتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ نے تھر میں غذائی قلت سے بچوں کی اموات سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

عدالت عظمیٰ میں سماعت کے دوران سیکریٹری ہیلتھ نے بتایا کہ ماؤں کی صحت ٹھیک نہیں، بچوں کی پیدائش میں وقفہ کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ کمیونٹی ہیلتھ ورکرزصرف 40 فیصد علاقے میں کام کرتی ہیں، جن علاقوں میں کمیونٹی ہیلتھ ورکرز کام کررہی ہیں وہاں اموات کم ہیں، ان علاقوں میں ماؤں کی صحت بھی بہتر ہے۔

سیکریٹری ہیلتھ نے کہا کہ ماں کی غذا ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے ہیموگلوبین کم ہوتا ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ مسئلہ حل کر نے کے لیے جو اقدمات کیے گئے وہ بتائیں۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ عوام کی زندگی کا معاملہ ہے چیف سیکریٹری اور وزیراعلیٰ سندھ کوبلالیتے ہیں، ایک کمیٹی تشکیل دیتے ہیں جوغیر جانبدار رپورٹ پیش کرے۔

تھرکے رکن قومی اسمبلی رمیش کمارنے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ میں بنیادی دیہی مراکز بنانا ہوں گے۔

رمیش کمار نے کہا کہ تھروہ جگہ ہے جہاں پورے ملک میں ملنے والا ہر نشہ ملے گا، وزرات صحت کے بس کی بات نہیں دیگر اداروں کو شامل کرنا ہوگا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب بتائیں اس میں ہم کیا اقدمات کرسکتے ہیں جس پر انہوں نے جواب دیا کہ اسپتال بنائے جاتے ہیں وہاں ڈاکٹرنہیں ملے گا۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ مشینیں بہت بڑی بڑی ہوں گی ان کا آپریٹرنہیں ہوتا، مٹھی کے ڈسٹرکٹ جج کو بلا کر پوچھ لیں کیا حال ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ میں خود تھر کا دورہ کروں گا۔

سپریم کورٹ نے غذائی قلت سے بچوں کی اموات سے متعلق کیس کی سماعت 11 اکتوبرتک ملتوی کرتے ہوئے آئندہ سماعت پرچیف سیکریٹری سندھ ، سیکریٹری فنانس ، سیکریٹری ہیلتھ ، اے جی سندھ، سیکریٹری پاپولیشن اورسیکریٹری ورک اینڈ سروسز کو طلب کرلیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں