The news is by your side.

Advertisement

نظام تعلیم کا بیڑاغرق کردیا، یہ ہے پنجاب حکومت کی کارکردگی‘ چیف جسٹس

لاہور: سپریم کورٹ نے سرکاری جامعات کے متعدد وائس چانسلرزکواستعفے دینے کی ہدایت کرتے ہوئے نئی سرچ کمیٹیاں قائم کرکے وائس چانسلرز کی جلد تعیناتیاں کرنے کے احکامات جاری کردیے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے سرکاری جامعات کے وائس چانسلرزکی تعیناتی سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

چیف جسٹس نے میرٹ کے برعکس سرکاری جامعات کے متعدد وائس چانسلرز کو استعفے دینے کی ہدایت کرتے ہوئے نئی سرچ کمیٹیاں قائم کرکے وائس چانسلرز کی جلد تعیناتیاں کرنے کے احکامات جاری کردیے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ بتایا جائے سینیئرلوگوں کو کیوں نظرانداز کیا گیا، ہائر ایجوکیشن کے وزیر کہاں ہیں؟ پنجاب یونیورسٹی اہم ترین ہے جس کا مستقل وی سی ڈھائی سال سے کیوں تعینات نہیں کیا گیا۔

انہوں نے سیکرٹری ہائر ایجوکیشن سے استفسار کیا کہ بتایا جائے کوتاہی کا ذمہ دار کون ہے، سیکرٹری، وزیریا وزیراعلیٰ پنجاب کس کو ذمہ دار ٹھہرائیں۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ ڈھائی سال سے مستقل تعیناتی نہ ہونے کا مطلب آپ نااہل ہیں جس پر سیکرٹری ہائی ایجوکیشن نے جواب دیا کہ پنجاب یونیورسٹی میں مستقبل تعیناتی کے لیے اگست تک کا وقت درکار ہے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا اس وقت موجودہ حکومت نہیں ہوگی، کیا اتنا طویل وقت اسی لیے مانگا جا رہا ہے۔

سیکرٹری ہائر ایجوکیشن نے کہا کہ درخواستوں کو پراسس کرنے کے لیے وقت چاہیے جس پرچیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اتنا متعصب ڈی ایم جی افسر میں نے نہیں دیکھا جو حکومت کا دفاع کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر6 ہفتوں میں مستقل وائس چانسلر کی تعیناتی نہ ہوئی تو آپ ذمہ دار ہوں گے۔


لاہورکالج فارویمن یونیورسٹی میں وی سی کی تعیناتی پرسماعت

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کالج فار ویمن یونیورسٹی میں وی سی کی تعیناتی سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ سینیئرز کو کیسے نظرانداز کردیا گیا، عدالت کے علم میں ہے کہ احسن اقبال کا لاہور کالج فارویمن یونیورسٹی کی وائس چانسلر کی تعیناتی میں کیا کردار ہے۔

اس موقع پر لاہور کالج یونیورسٹی کی وائس چانسلر عظمیٰ قریشی نے کہا کہ احسن اقبال میرے والد کے شاگرد ہیں، حلفاََ کہتی ہوں ان کا تعیناتی میں کوئی کردار نہیں۔

وزیرہائرایجوکیشن علی رضا گیلانی نے کہا کہ عظمیٰ قریشی کی تعیناتی میرے دور میں نہیں ہوئی اور تعیناتی سے متعلق انکوائری میرے پاس آئی تھی۔

سپریم کورٹ نے لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کی وائس چانسلرعظمیٰ قریشی کو معطل کردیا اور 3 سینیئرترین پروفیسرز میں سے ایک کو قائم مقام وائس چانسلر تعینات کرنے کے احکامات جاری کردیے۔

عدالت نے ڈاکٹرعظمیٰ قریشی کو انکوائری میں پیش ہونے جبکہ وی سی کی تعیناتی کے لیے نئی سرچ کمیٹی بنانے کا حکم دے دیا۔

عظمیٰ قریشی نے کہا کہ میری تعیناتی میرٹ پر ہوئی ہے استعفیٰ نہیں دوں گی، میں بالکل سفارشی نہیں ہوں، معطل نہ کیا جائے اس سے میری ساکھ متاثر ہوگی۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ نئی سرچ کمیٹی میں دوبارہ سے اپلائی کریں اور میرٹ پرپورا آئیں تو تعینات ہوجائیں گے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں