The news is by your side.

Advertisement

بھٹوکےشہرکےاسپتال کایہ حال ہے، :دوسرے شہروں کےاسپتالوں کا کیا حال ہوگا،چیف جسٹس

لاڑکانہ: چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے لاڑکانہ کے چانڈکا اسپتال کی حالت زار دیکھ کر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھٹو کے شہر کےاسپتال کا یہ حال ہے تودوسرے شہروں کےاسپتال کا کیا ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق بھٹو کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار اندرون سندھ پہنچے تو اسپتالوں کی حالت زار دیکھ کر حیران رہ گئے، چیف جسٹس سپریم کورٹ چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کے ہمراہ اچانک لاڑکانہ کے چانڈکا اسپتال پہنچ گئے اور مختلف وارڈز میں مریضوں کی عیادت کی، ان کو دیکھ مریضوں کے اہلخانہ نے شکایات کے انبار لگا دیے۔

جسٹس ثاقب نثار نے اسپتال کی ابتر صورتحال دیکھ کر کہا بھٹو کے شہر کے اسپتال کا یہ حال ہے تو دوسرےشہروں کےاسپتال کا کیا حال ہوگا؟

چیف جسٹس نے سیپکو حکام کو اسپتال میں لوڈشیڈنگ کرنے سے روک دیا اور اسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ ایمرجنسی کیلئے بیک اپ رکھیں۔

چانڈکا اسپتال کے بعد چیف جسٹس نے لاڑکانہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت کا بھی دورہ کیا اور 6 ایڈیشنل سیشن کے ججوں پر برہمی کا اظہارکیا اور چھ ایڈیشنل سیشن ججز کی کارکردگی کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے ان کے تبادلے کی ہدایت کردی۔

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ لاڑکانہ کا دورہ ، چیف جسٹس نے غصے میں جج کا موبائل پٹخ دیا


چیف جسٹس میاں ثاقب نثار ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ لاڑکانہ میں جج کا موبائل دیکھ کر غصے میں آگئے،ایڈیشنل سیشن جج کا موبائل اٹھا کر پھینک دیا اور کہا کہ تمہیں موبائل فون عدالت میں رکھنے کی کس نےاجازت دی۔

جسٹس میاں ثاقب نثار نے کارروائی کے دوران سرکاری وکیل کی غیر موجودگی پر بھی برہم ہوتے ہوئے کہا کہ اسپتال اور دوسرے اداروں کا دورہ کرکے مطمئن نہیں ، عدالتیں دیکھ کر مجھے بہت مایوسی ہوئی، عدالتی کارروائی اس طرح ہوگی تو لوگوں کو انصاف نہیں ملے گا۔

چیف جسٹس ہائی کورٹ بارکےظہرانےسےخطاب بھی کریں گے۔

خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں