The news is by your side.

Advertisement

زلزلہ متاثرین فنڈ کیس: چیف جسٹس ترقیاتی کاموں کا جائزہ لینےکےلیےبالاکوٹ روانہ

اسلام آباد : چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے زلزلہ متاثرین کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ ہمیں وزیرخزانہ آکربتائیں زلزلہ زدگان کی امداد کیسے خرچ کی گئی؟۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں زلزلہ متاثرین کے فنڈ کیس کی سماعت ہوئی۔

سیکریٹری خزانہ اور زلزلے کے بعد بحالی کے کام کرنے والی تنظیم ایرا کے نمائندے بھی عدالت عظمیٰ میں پیش ہوئے۔

چیف جسٹس نے سماعت کے آغاز پرسیکریٹری خزانہ سے استفسار کیا کہ کیا ساری امداد سرکاری خزانے میں ڈال دی تھی؟ بالا کوٹ شہر کا کیا بنا؟

انہوں نے ریمارکس دیے کہ اربوں روپے کی امداد پاکستانی مخیرحضرات نے دی، غیرملکی امداد ملا کر کتنے پیسے جمع ہوئے ؟ جس پر سیکریٹری خزانہ نے جواب دیا کہ بیرون ممالک سے 2.89 ارب ڈالر امداد ملی جبکہ اندرون ملک سے ملنے والی امداد کا حساب موجود نہیں ہے۔

نمائندہ ایرا نے عدالت کو بتایا کہ ادارے نے 14ہزار7سومنصوبوں پرکام کرنا تھا، اب تک ایرا 10 ہزار5 سو89 منصوبے مکمل کرچکا ہے۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ سال 2006 سے اب تک انتظامی امور پر 5 ارب 36 کروڑ روپے لگے ہیں، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کیا پانچ ارب روپے معمولی رقم ہے؟ ایرا میں چاچے مامے بھرتی کیے گئے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں وزیرخزانہ آکربتائیں زلزلہ زدگان کی امداد کیسے خرچ کی گئی؟، اس وزیرخزانہ کو بلائیں جو پاکستان میں نہیں رہے، سابق وزیرخزانہ آکربتائیں پیسے کہاں کہاں خرچ ہوئے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے نمائندہ ایرا سے سوال کیا کہ مانسہرہ جانے میں کتنا وقت لگے گا؟ جس پر انہیں بتایا گیا کہ مانسہرہ جاتے میں 4 گھنٹے سے زائد لگتے ہیں۔

انہوں نے پوچھا کہ ہیلی کاپٹر کا بندوبست کرسکتے ہیں؟ جس پر ایرا کے نمائندے نے جواب دیا کہ حکومت کوکہتے ہیں تو ہیلی کاپٹرمل جاتا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ابھی بالا کوٹ جا رہے ہیں، اپنے خرچے پرجائیں گے، جس جس نے جانا ہے قافلے کے ساتھ آجائے، ہم ڈھاپے وغیرہ سے کھانا کھا لیں گے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار بالاکوٹ روانہ ہوگئے جہاں وہ زلزلہ متاثرین کے لیے ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیں گے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں