اسحاق ڈار واپس نہیں آتے ہیں توعدالت ان کے خلاف فیصلہ سنا دے گی‘ چیف جسٹس -
The news is by your side.

Advertisement

اسحاق ڈار واپس نہیں آتے ہیں توعدالت ان کے خلاف فیصلہ سنا دے گی‘ چیف جسٹس

اسلام آباد : سپریم کورٹ میں اسحاق ڈار سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اسحاق ڈار واپس نہیں آتے ہیں توعدالت ان کے خلاف فیصلہ سنا دے گی۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں اسحاق ڈار سے متعلق کیس کی سماعت جاری ہے۔

اٹارنی جنرل نے سماعت کے آغاز پر عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ بیرون ملک سے ملزمان کو لانے کے 2 طریقے ہیں، ایک یہ کہ انٹر پول کے ذریعے اسحاق ڈارکوواپس لایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ دوسرا طریقہ یہ کہ ملک کے ساتھ ملزمان کے تبادلے کا معاہدہ ہو، موجودہ حکومت اس ضمن میں کوشاں ہے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ اسحاق ڈار واپس نہیں آتے ہیں توعدالت ان کے خلاف فیصلہ سنا دے گی۔ جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ نیب نے ابھی تک کوئی سنجیدہ اقدامات نہیں کیے۔

سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ اسحاق ڈارکے معاملے میں اٹارنی جنرل نے مزید وقت مانگا ہے، عدالت 10 دن کی مہلت دیتی ہے۔

نمائندہ وزارت خارجہ نے بتایا کہ وزرات خارجہ نے عدالتی حکم پرانٹر پول سے رابطہ کیا، انٹرپول نے کہا ان کا کاؤنٹرپارٹ نیب اورایف آئی اے ہی رابطہ کرے۔

عدالت عظمیٰ نے ریمارکس دیے کہ ایف آئی اے اور نیب بتائیں کہ انہوں نے کیا کیا جس پر ایف آئی اے کے نمائندے نے بتایا کہ ہم نے فوری طورپرریڈ وارنٹ کے لیے انٹر پول کولکھ دیا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پاسپورٹ خارج کر دیں تووہ سیاسی پناہ لیتے ہیں تو لے لیں، اسحاق ڈار کو چک ایسی پڑی ہے کہ معاملہ ہی چکا گیا ہے۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ وزارت داخلہ سے پوچھ کر بتائیں پاسپورٹ منسوخی کی کیا گنجائش ہے، ایک پاکستانی شہری جو اشتہاری ہے جسے سپریم کورٹ نے طلب کررکھا ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ریمارکس دیے کہ وہ کہتا ہے میں نے آنا ہی نہیں ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں