The news is by your side.

Advertisement

چیف جسٹس نے خیبرپختونخوامیں صحت کےشعبے کی حالت کو قابل رحم قرار دے دیا

اسلام آباد : چیف جسٹس نے خیبر پختونخوا میں صحت کے شعبے کی حالت کو قابل رحم قرار دے دیا اور وزیر صحت خیبر پختونخوا کو طلب کرتے ہوئے کہا آپ توبڑی باتیں کرتے تھے کے پی میں شعبہ صحت نے ترقی کی، صحت اورتعلیم میں ترقی کے بغیر حکومت نام کی ہوتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں خیبر پختونخوا کے اسپتالوں کا فضلہ ٹھکانے لگانے سے متعلق سماعت کی۔

سماعت میں سیکرٹری ہیلتھ کے پی نے بتایا ہم نے انسرینیٹر لگائے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا ہماری بیماریوں کا بڑا سبب انفیکشن کا پھیلنا ہے، بیان حلفی دیں فضلہ تلف کرنے کا نظام موجود ہے۔

سیکرٹری ہیلتھ سےمکالمہ میں چیف جسٹس نے کہا عدالت انکوائری افسرمقررکرے گی جو دیکھے گا کیا کمی ہے، آپ پختونخوامیں سب اچھے کی بات کر رہے ہیں، آپ کی کوتاہیاں بالکل واضح ہیں۔

چیف جسٹس نے خیبرپختونخوا میں صحت کے شعبے کی حالت کو قابل رحم قراردیتے ہوئے صوبائی وزیر صحت کو منگل کو طلب کرلیا

چیف جسٹس نے سیکریٹری صحت کے پی سے مکالمے میں کہا آپ تو بڑی باتیں کرتے تھے، کے پی میں شعبہ صحت نے ترقی کی، اسپتالوں کے فضلے کو ٹھکانے لگانے کا طریقہ انتہائی ناقص ہے۔

جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ کیا اسپتالوں کافضلہ ٹھکانے لگانےکی مشینری نصب ہے، سیکریٹری صحت کےپی نے بتایا 4 روز ہوئے ہیں، میں چارج سنبھالا ہے، جسٹس اعجاز کا کہنا تھا کہ 21 ہزار کلو فضلہ بن رہا ہے اور 3ہزار کلو آپ ٹھکانے لگاتے ہیں۔

عدالت نے کہا نے21 ہزار کلو فضلہ بن رہا ہے اور 3ہزار کلو آپ ٹھکانے لگاتے ہیں، مطلب یہ ہے باقی فضلے کو آپ دریا برد کر رہے ہیں۔

کےپی کے اسپتالوں میں بینادی صحت کی سہولتوں کی فراہمی کے معاملے پر چیف جسٹس نے کہا حکم میں کہا تھابنیادی صحت کی سہولیات کو پورا کریں، جب ہم وہاں گئے تو وہاں بنیادی سہولیات کافقدان تھا۔

سیکریٹری صحت نے کہا ایک ہفتےکاوقت دیں توجامع رپورٹ پیش کردونگا، جس پر چیف جسٹس نے کہا صحت،تعلیم میں ترقی کےبغیرحکومت صرف نام کی ہوتی ہے، ایوب میڈیکل کالج کو آپ نےہماری ہدایات کےمطابق کردیا؟ وہ بھی نہیں ہوا ہوگا۔

عدالت نے سرکاری اسپتالوں سےمتعلق عدالتی احکامات پردو ہفتوں میں رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں