The news is by your side.

Advertisement

سانحہ کوئٹہ کمیشن رپورٹ جامع تھی، عملدرآمد کروائیں گے، چیف جسٹس

کوئٹہ: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ سانحہ کوئٹہ کے کمیشن کی رپورٹ بہت جامع تھی جس پر عدلیہ ہرصورت عمل درآمد کروائے گی۔

کوئٹہ میں سانحہ 8 اگست 2016 کےشہداء کی یاد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ دہشت گردی پاکستان کو کمزور کرنے کی سازش ہے، دشمن کسی صورت نہیں چاہتا کہ ہمارا ملک خوشحال ہوجائے، پاکستان میں دہشت گردی ایک سازش کے تحت کی جارہی ہے، جب ہم اس کے محرکات پر غور کرتے ہیں تو اس کے تانے بانے باہر سے ملتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سانحہ 8 اگست میں کئی سینئر وکلاء شہید ہوئے، استاد اگر چلے جائیں تو شاگردوں کو سکھانے والا کوئی نہیں ہوتا تاہم ہم کو سانحے کے بعد ملک کے لیے پھر سے کھڑا ہونا ہے اور سازشوں کو ناکام بنانے میں ہر شخص کو اپنا کردار ادا کرنا ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ سے ہمیں گھبرانا نہیں ہے اور نہ ہی اس جنگ میں ہمیں کمزور پڑنا ہوگا۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ سانحہ ہم ایک روح اور 2 جسم کی طرح ہے، بزدلانہ واقعے سے ہمارا جسم مفلوج ضرور ہوا تاہم اس بات کا مکمل یقین ہے کہ وقت کے ساتھ ہمارے زخم بھر جائیں گے اور ایک وقت کے بعد پھر وکیل تیار ہوں گے۔

جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ سانحہ کوئٹہ سے متعلق جسٹس فائز عیسیٰ کی رپورٹ بہت جامع تھی جس پر عدلیہ ہر صورت عمل کروائے گی، ملک میں عام حالات نہیں تاہم عدالتوں کی سیکیورٹی کے لیے جامع حکمتِ عملی کی ضروت ہے جس کے لیے ہم وزارتِ داخلہ سے مکمل رابطے میں ہیں۔

چیف جسٹس نے واقعے میں شہید وکیلوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ بزرگ باپ کا بیٹا بیرسٹر تھا مگر اُن کی کہی بات کانوں میں آج بھی گونجتی ہے، پاکستان بغیر قربانیوں کے حاصل نہیں کیا گیا اور اس کا سلسلہ آج بھی جاری ہے، سانحہ کوئٹہ میں شہید ہونے والے وکلا ہم سب میں ایک نیا جذبہ پیدا کر گئے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں