The news is by your side.

Advertisement

لوگوں کو ایک لمحے کیلئے بیمار نہیں ہونے دیں گے، چیف جسٹس

لاہور : سرگودھا میں کیمیکل فیکٹری کے فضلے سے آبی آلودگی کیس میں چیف جسٹس نے فیکٹری کے فضلے کے سیمپلز پی سی ایس آئی آر اور ای پی اے لیبارٹریز کو بھجوانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ لوگوں کوایک لمحے کیلئے بیمارنہیں ہونے دیں گے۔

تفصیلات کے مطابق لاہور سپریم کورٹ رجسٹری میں چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی، عدالتی حکم پر سیکریٹری ماحولیات عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ علاقے میں چھ بیڈز پر مشتمل ڈسپنسری قائم کر دی گئی ہے۔ فیکٹری کے آلودہ پانی کے سیمپلز لینے کیلئے کمیٹی بھی تشکیل دے دی جو 23 اپریل کو موقع سے سیمپل حاصل کرے گی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ لوگوں کو ایک بھی لمحے کیلئے بیمار نہیں ہونے دیں گے، کرسٹلائنز فیکٹری کا مالک کافی بااثر خاندان کا ہے، ان کے ایم پی ایز اور ایم این ایز ہیں، ہم صرف رپورٹس پر انحصار نہیں کریں گے، اپنے طور پر بھی چیک کروائیں گے۔

عدالت نے دلائل کے بعد فیکٹری کے فضلے کے سیمپلز پی سی ایس آئی آر اور ای پی اے لیبارٹریز کو بھجوانے کا حکم دے دیا جبکہ عدالت نے بدھی نالہ میں موجود رکاوٹیں اور پانی کا بہاؤ درست کر کے پندرہ دن میں رپورٹ طلب کر لی۔

عدالت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل امتیاز کیفی کو کرسٹلائنز فیکٹری کے حوالے رپورٹ پیش کرنے کا بھی حکم دیا۔

یاد رہے کہ فیکٹری مالک پر بدھی نالہ پر سی سی پی او نے بند باندھنے کا الزام لگایا تھا۔

دوسری جانب ماحولیاتی آلودگی سے متعلق مقدمے میں سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ سموگ کمیشن رپورٹ مرتب کرکے نو جون کوپیش کی جائے ۔۔چیف جسٹس نے متنبہ کیا صحت معاملہ ہے،اس پرتاخیربرداشت نہیں کی جائےگی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں