The news is by your side.

نوازشریف اورمریم نوازکی تقاریرپرپابندی،چیف جسٹس نے ازخودنوٹس لے لیا

اسلام آباد : چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے سابق وزیراعظم نوازشریف اور مریم نوازکی عدلیہ مخالف تقاریر نشر کرنے پر پابندی کے فیصلے پر ازخود نوٹس لے لیا اور کہا کہ جائزہ لیں گے کیا پابندی آزادی اظہار رائے کے منافی تو نہیں۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے لاہورہائی کورٹ کے سابق وزیراعظم نوازشریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کی عدلیہ مخالف تقاریر نشر کرنے پر پابندی کے فیصلے کا نوٹس لے لیا۔

جائزہ لیں گے کیا پابندی آزادی اظہار رائے کے منافی تو نہیں

جسٹس ثاقب نثار چیف جسٹس آف پاکستان

چیف جسٹس ازخودنوٹس کی سماعت آج دوپہر ایک بجےکریں گے جبکہ پیمرا اورسیکریٹری اطلاعات کونوٹس جاری کرتے ہوئے ایک بجے عدالت پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

جسٹس ثاقب نثار نے لاہورہائی کورٹ سے تمام مقدمے کا ریکارڈ بھی طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جائزہ لیں گے کیا پابندی آزادی اظہاررائے کے منافی تو نہیں۔

یاد رہے گذشتہ روز لاہور ہائی کورٹ نے نواز شریف ، مریم نواز سمیت سولہ ن لیگی رہنماوں کی عدلیہ مخالف تقاریر کی نشریات پر 15 دن کے لیے عبوری پابندی عائد کردی تھی اور پیمراء کواس حوالے سے ملنے والی شکایات پر دو ہفتوں میں فیصلہ کرنے کا حکم دیا تھا۔

عدالت نے حکم دیا کہ پیمرا ان تقاریر کی سخت مانیٹرینگ کرے اور رپورٹ عدالت میں جمع کروائے، فل بنچ خود بھی اس عمل کی نگرانی کرے گا۔


مزید پڑھیں : نوازشریف اور مریم نواز کی عدلیہ مخالف تقاریر نشر کرنے پرعبوری پابندی عائد


پیمرا کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے موقف اختیار کیا تھا کہ کسی کی تقریروں پر پابندی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہو گی، جس پر جسٹس مظاہرعلی اکبر نقوی نے ریمارکس دیئے تھے کہ پیمرا نے درخواست تکنیکی بنیادوں پر خارج کیں، کیا عدلیہ کی توہین کی اجازت دے دی گئی۔

واضح رہے کہ مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کے خلاف توہین عدالت کے کیسز زیر سماعت ہیں ، رہنماؤں میں وزیر داخلہ احسن اقبال، وزیر ریلوے سعد رفیق ، وزیر مملکت طلال چوہدری اور وزیر برائے نجکاری دانیال عزیز شامل ہیں۔

اس سے قبل مسلم لیگ ن کے رہنما نہال ہاشمی توہین عدالت کیس میں 1 ماہ قید اور پچاس ہزار روپے جرمانے کی سزا کاٹ چکے ہیں جبکہ دوسری بار توہین عدالت کیس میں سپریم کورٹ نے نہال ہاشمی کی معافی قبول کرلی تھی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں