The news is by your side.

Advertisement

جنوبی سوڈان میں بدترین جھڑپیں، 127 افراد ہلاک

جوبا: جنوبی سوڈان کے علاقے ٹونج میں بدترین جھڑپوں میں 127 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق جنوبی سوڈان کے علاقے ٹونج میں مسلح سویلینز اور سرکاری فورسز کے درمیان خوں ریز جھڑپوں میں 127 افراد ہلاک ہو گئے.

دو روز جاری رہنے والے جھڑپوں میں ہلاک ہونے والوں میں 45 سیکورٹی فورسز کے اہل کار تھے جب کہ 82 مسلح افراد ہلاک ہوئے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق جنوبی سوڈان کے حکام نے کہا ہے کہ وراپ ریاست کے علاقے شمالی ٹونج کو اسلحے سے پاک کرنے کے لیے آپریشن کیا جا رہا تھا، گزشتہ ہفتے کو ہونے والے اس آپریشن کے دوران سیکورٹی فورسز اور ایک نوجوان کے درمیان جھگڑا ہو گیا، جس نے خوں ریز جھڑپوں کی صورت اختیار کر لی۔

ٹونج کے حکام نے غیر ملکی میڈیا کو بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے ایک نوجوان کو رکنے اور تلاشی کا حکم دیا تھا لیکن وہ بھاگ گیا، جسے فورسز نے پکڑ لیا، اس دوران ان کے رشتہ دار اسے بچانے کے لیے آ گئے، اور فورسز نے مارکیٹ میں سویلینز پر گولیاں برسانا شروع کر دیا۔

حکام کے مطابق علاقے میں اسپتالوں کو بھی لوٹا اور تباہ کیا گیا ہے جس کی وجہ سے زخمی ہونے والے سویلینز کو طبی امداد کی فراہمی مشکل ہو گئی ہے، جس کے سبب مزید ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔

فورسز کے ترجمان میجر جنرل لُل روائی کوآنگ نے تصدیق کی کہ جھڑپوں میں 127 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے 45 فوجی ہیں اور 82 سویلین۔

واضح رہے کہ 2013 میں شروع ہونے والے قبائلی تنازع کو ختم کرنے کی ڈیل کے تحت بننے والی قومی حکومت نے گزشتہ ماہ ٹونج کاؤنٹی میں لوگوں کو غیر مسلح کرنے کے لیے آپریشن شروع کیا تھا۔

شہریوں کو غیر مسلح کرنے کا یہ منصوبہ جنوبی سوڈان کے صدر سلوا کیئر اور ان کے حریف رِیک مچار کے درمیان ہونے والے حالیہ امن معاہدے کا حصہ ہے، ریک مچار کو فروری میں نائب صدر مقرر کیا گیا تھا۔ جنوبی سوڈان نے 2011 میں سوڈان سے آزادی کا اعلان کیا تھا، لیکن 2 سال بعد ہی مختلف نسلی گروہ سے تعلق رکھنے والے سلوا کیئر نے اپنے ڈپٹی ریک مچار کو برخواست کر دیا اور یہ علاقہ خوف ناک خانہ جنگی کا شکار ہو گیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں