نامور کلاسیکل گلوکار استاد غلام حسن شگن کو ہم سے بچھڑے چار برس بیت گئے -
The news is by your side.

Advertisement

نامور کلاسیکل گلوکار استاد غلام حسن شگن کو ہم سے بچھڑے چار برس بیت گئے

لاہور: کلاسیکی موسیقی کے بے تاج بادشاہ استاد غلام حسن شگن کو ہم سے بچھڑے چار برس بیت گئے مگر اُن کا فن آج بھی مداحوں کے دلوں میں زندہ ہے۔

ریڈیو پاکستان کے لاہور اسٹیشن نے دنیا کو کئی کلاسیکل گلوکار دیئے اور استاد شگن بھی ان میں سے ایک تھے۔ نامور کلاسیکل گلوکار غلام حسن شگن1928امرتسر میں پیدا ہوئے، ان کے والد اور بھائی بھی مشہور کلاسیکل گلوکار تھے۔

قیام پاکستان کے بعد ان کا خاندان لاہور آکر قیام پذیر ہوگیا، ان کے والد نے ریڈیو پاکستان لاہور میں بحیثیت میوزک سپروائزر ملازمت اختیار کی، مشہور گوالیار گھرانے سے تعلق رکھنے والے استاد غلام حسن شگن نے محض سات سال کی عمر میں لاہور میں ہونے والے ایک ایک پروگرام سے اپنے فن کا آغاز کیا۔

ابتدا میں انہیں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنی محنت اور فن سے سچی لگن کے باعث وہ ملک اور بیرون ملک آل پاکستان میوزک کانفرنس اور اس جیسے دوسرے بڑے فورمز کا مستقل حصہ بننے لگے۔1998میں حکومت پاکستان نے انہیں پرائڈ آف پرفارمنس سے نوازا اور اس کے بعد سال2000میں ان کی فنی خدمات کے عوض ستارہ امتیاز بھی عطا کیا گیا۔

اس سے قبل سال1962میں استاد شگن کے فن سے متاثر ہوکر بھارت کے شہر کولکتہ میں ایک میوزک کانفرنس میں سنگیت سمراٹ ایوارڈ دیا جا چکا ہے،دورہ بھارت میں انہیں سنگیت رتن اور سندھ سنگیت منڈلم جیسے القابات بھی ملے۔

استاد شگن صرف برصغیر میں مشہور نہیں تھے بلکہ فرانس، سوئیڈن، سپین، سوئٹزرلینڈ ، جرمنی اور برطانیہ کے موسیقار بھی ان کی بہترین پرفارمنس پر ان کے معترف تھے۔ نامور کلاسیکل گلوکار غلام حسن شگن آج سے چار سال قبل دل کے عارضے میں مبتلا ہوکر پچاسی سال کی عمر میں جہان فانی سے کوچ کر گئے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں