The news is by your side.

Advertisement

مٹی سے نوادرات بنانے کی ماہر ثمرین سولنگی

کراچی: سندھ کی رہائشی باصلاحیت ثمرین سولنگی آثار قدیمہ سے ملنے والے نوادرات کی نقل تیار کرتی ہے جسے سیاح نہایت شوق سے خریدتے ہیں، ثمرین انہیں فروخت کر کے اپنے گھر کا خرچ چلاتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق آثار قدیمہ موہن جودڑو کے نزدیک ایک گاؤں کی رہائشی ثمرین سولنگی، چکنی مٹی سے نوادرات کے نمونے بناتی ہے۔

ثمرین پانچ بہنوں میں سب سے بڑی ہے اور اپنے اس فن کے ذریعے اپنے گھر کا خرچ چلاتی ہے، ثمرین کے مطابق اس نے یہ فن بچپن میں ہی اپنے والد سے سیکھا تھا، وہ اور اس کے والد دونوں کوزہ گری کا کام کرتے ہیں۔

ثمرین موہن جودڑو سے ملنے والے کنگ پریسٹ، ڈانسنگ گرل اور مہروں کی نقل، اور بعض اوقات پورے موہن جودڑو کا ماڈل بھی بناتی ہے، جسے سیاح ہاتھوں ہاتھ خریدتے ہیں۔

وہ اور اس کے والد موہن جودڑو کے قریب ہی اسٹال لگاتے تھے تاہم کرونا لاک ڈاؤن کی وجہ سے گزشتہ برس اور اس برس بھی دونوں باپ بیٹی کچھ بھی فروخت نہیں کرسکے۔

سیاحتی پابندی کے باعث ان کا کاروبار ٹھپ ہوچکا ہے، رواں برس بارشوں میں ثمرین کے گھر کی چھت بھی گر گئی جسے مرمت کروانے کے لیے اس کے پاس رقم نہیں۔ اب یہ خاندان کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔

ثمرین کی حکومت سے درخواست ہے کہ اس کا کاروبار چلنے تک اسے معاشی مدد فراہم کی جائے تاکہ وہ اپنے گھر کی مرمت کروا سکے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں