کلین اینڈ گرین پاکستان: شہریوں کی ذمہ داری کیا ہے؟ -
The news is by your side.

Advertisement

کلین اینڈ گرین پاکستان: شہریوں کی ذمہ داری کیا ہے؟

وزیراعظم عمران خان نے کلین اینڈ گرین پاکستان مہم کا آج باقاعدہ آغاز کیا ہے اور ان کا دعویٰ ہے کہ پانچ سال بعد پاکستان یورپ سے زیادہ صاف نظر آئے گا، اس مہم کی کامیابی کے لیے شہریوں کی شرکت بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنا کہ حکومت کی خواہش لازمی ہے۔

عمران خا ن نے اس مہم کا آغاز وزیر اعظم نے اسلام آباد کے تعلیمی ادارے میں پودا لگا کراور جھاڑو دے کر کلین اینڈ گرین مہم کا آغاز کیا۔وزیراعظم عمران خان نے پودا لگانے کے بعد طلبا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا سب بچوں کو معلوم ہے کہ پاکستان کو درختوں کی کتنی ضرورت ہے، گلوبل وارمنگ سےمتاثرممالک میں پاکستان کاساتواں نمبر ہے۔

اب جب کہ موجودہ حکومت ملک کو صاف ستھرا کرنے اور آلوگی کو ختم کرکے سرسبز و شاداب کرنے کی بات کررہی تھی پاکستان کا شہری ہونے کےناطے یہ ہم سب کی شہری ذمہ داریوں میں شامل ہے کہ ہم اسے کامیاب بنائیں ، چاہے ہمارا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے کیوں نہ ہو کہ یہ صحت و صفائی اور سرسبز و شاداب ملک ہماری ہی آنے والی نسلوں کے لیے سب سے زیادہ ضروری ہے۔

آئیے دیکھتے ہیں کہ پاکستان کا شہری ہونے ہم کس طرح اپنے اندازِ زندگی میں معمولی تبدیلی لا کر اس مہم کو کامیابی سے ہمکنار کرسکتے ہیں۔

ایک خاندان ایک پودا


درخت ہماری حیات کا ضامن ہیں ، یہ کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرکے آکسیجن فراہم کرتے ہیں۔ اگر ایک خاندان ایک پودے کو پروان چڑھائے تو ملک میں تین کروڑ بیس لاکھ کے لگ بھگ خاندان ہیں، یعنی اتنے ہی درخت یقینی پروان چڑھیں گے۔
آپ اپنی شادی یا بچے کی پیدائش پر بھی ایک درخت لگا کر اس کو بطور یاد گار پروان چڑھا سکتے ہیں۔

کوڑے میں فرق کیجئے


یاد رکھیں کہ ہر طرح کا کوڑا ، کچرا نہیں ہوتا۔ دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک میں گھر کے کچن سے لے کر گھر کے باہر رکھے ڈرموں تک اور اس سے آگے ڈمپنگ یارڈ تک خشک کوڑا اور گیلا کچرا دونوں الگ رکھے جاتے ہیں۔ یہی پریکٹس اپنے گھر میں شروع کردیں۔ خشک کچرا جیسے اخبار ، لفافے ، ردی ، ڈبے اور ایسی ہی دیگر اشیا آپ فروخت کرکے انہیں ری سائکلنگ کے نظام کا حصہ بھی بنا سکتے ہیں۔ صرف گھر میں ایک اضافی کوڑے دان رکھنے سے آپ ایک بڑی تبدیلی کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔

اپنی گلی کی ذمہ داری لیں


ہم میں سے بیشتر لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر ہمارا گھر صاف ہے تو ہم مہذب ہیں ۔۔ جی نہیں صاحب! آپ کی گلی یا کمپاؤنڈ بھی آپ ہی کے گھر کا حصہ تصور کیا جاتا ہے۔آپ کا گھر شیشے کی طرح چمچمائے لیکن گلی میں کچرے کے ڈھیر ہوں تو آپ کے رشتے دار اور ملنے والے یہی کہیں گے کہ گندے علاقے میں رہتے ہیں۔

گلی ، محلے یا کمپاؤنڈ کی سطح پر ایک کمیٹی بنائیں جو اس بات کو یقینی بنائے کہ صفائی کا عملہ اپنا کام درست طور پر انجام دے ، اور اہل ِ محلہ بھی صفائی کے بعد اضافی کوڑا نہ پھینکیں۔ اپنی مدد آپ کے تحت ہر گلی میں دو کوڑے دان( خشک اور گیلا ) نصب کیے جاسکتے ہیں جس سے حکومت کو اپنے کام میں آسانی ہوگی۔ سال میں ایک مرتبہ اپنے علاقے میں رنگ وروغن کرانا بھی کچھ مہنگا نہیں پڑتا اور گلی محلے میں اگر خوشنما درخت ہوں، گھروں کے آگے مختصر کیاریاں ہوں تو یہ سب آپ ہی کی ذہنی اور جسمانی صحت کے لیے اچھا ہے۔

منع کیجئے


اگر آپ اوپر والے کام اپنی ذمہ داری انجام دے رہے ہیں تویقیناً آپ ایک صاف ستھرے ماحول میں رہائش پذیر ہوں گے ۔ ایسے میں اگر کوئی شخص ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کرے ، بلا سبب کوڑا پھینکے تو اسے نظر انداز مت کریں ، آگے بڑھیں اور اسے منع کیجئے کہ اچھے بھلے صاف ستھرے محلے میں خرابی کا سبب نہ بنیں۔ اگر وہ شخص نہ مانے تو محلہ کمیٹی کے ذریعے اس پر معاشرتی دباؤ بڑھائیں۔

اساتذہ متوجہ ہوں


سب سے اہم کردار اس معاملے اساتذہ ادا کرسکتے ہیں، ہمیں اندازہ ہے کہ پاکستان میں اساتذہ کو بے پناہ مشکلات درپیش ہیں، لیکن اس کے باوجود نئی نسل کی تعلیم و تربیت بھی ان ہی کہ ذمے ہے ج۔ کیسے بھی حالات ہوں نئی نسل کی تربیت کرنا اساتذہ کی ذمہ داری ہے۔ ہم ایسے بھی اساتذہ کا تذکرہ سنتے رہے ہیں کہ جو میدانِ جنگ میں بھی اپنے فرائض سے پیچھے نہیں ہٹے۔

آپ پر فرض ہے کہ کم عمر ی میں ہی بچوں کو درختوں سے پیار کرنا سکھائیں اور بتائیں کہ یہ ہمارے سانس لینے کے لیے کس قدر ضروری ہیں۔ انہیں بتائیں صفائی انہی کی صحت کے لیے لازمی ہے اس لیے اپنا گھر ، اسکول اور محلہ صاف رکھا جائے۔ اگر کوئی بچہ اسکول میں کچرا پھینکتا ہے تو اسے پیار سےسکھائیں کہ ایسا کرنا بہت غلط بات ہے ۔ اساتذہ کی یہ تربیت ہی کل کو ایک ذہنی طور پر منظم قوم پیدا کرسکے گی۔

پانی بچائیں


کچھ معمولی تراکیب سے ہم پانی کی بڑی تعداد بچا سکتے ہیں۔ ایک اوسط فلش ٹینک میں 13 لیٹر پانی آتا ہے ۔ یعنی دن میں اگر پانچ مرتبہ فلش کیا جائے تو 65 لیٹر صاف پانی اسی کام میں ضائع ہوجاتا ہے۔ آپ پلمبر سے معمولی تبدیلی کرا کر اپنے واش بیسن کے استعمال شدہ پانی کو فلش ٹینک میں استعمال کرسکتے ہیں۔ اگر آپ نیا گھر تعمیر کر رہے ہیں تو ایک فلٹر پلانٹ لگا کر استعمال شدہ پانی کو گارڈننگ کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ہم میں سے بہت سے لوگ بہت دیر تک گاڑی دھوتے رہتے ہیں ۔ اگر آپ کو گاڑی دھونے کا اتنا ہی شوق ہے تو کار واش کے لیے ایک کمپریسرخرید لیں جو دباؤ کے ذریعے پانی کو پریشر سے پھینکے گا۔ اس سے آپ کی گاڑی کم پانی میں زیادہ اچھے سے صاف ہوجائے گی۔

یہ سب کہنے کو انتہائی معمولی اقدامات ہیں ، لیکن ان پر عمل پیرا ہو کر ہم اپنے محلے ، علاقے ، شہر اور پورے ملک میں ایک سرسبز و شاداب اورصاف ستھرے انقلاب کا آغاز کرسکتے ہیں ، یاد رکھیں یہ ملک ہمارا ہے اور اسے ہم نے ہی سجانا ، سنوارنا اور آگے بڑھانا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں