site
stats
پاکستان

صاف پانی کی کمپنیوں کی تفصیلات دس دن میں فراہم کی جائیں: عدالت

PAT dharna

لاہور: ہائی کورٹ میں صاف پانی کمپنی میں بے ضابطگی کیس میں عدالت نے چیف سیکرٹری پنجاب کی سرزنش کرتے ہوئے قرار دیا کہ اس ملک میں جنگل کا قانون نہیں چلنے دیا جائے گا ۔

تفصیلات کے مطابق آج بروز پیر لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ثانیہ کنول ایڈووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی‘ عدالت نے صاف پانی سمیت دیگر پبلک سیکٹر کمپنیوں کی تفصیلات پیش نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا۔

سماعت کے دوران عدالتی حکم پر چیف سیکرٹری پنجاب عدالت میں پیش ہوئے۔عدالت نے ریماکس دیے کہ چیف سیکرٹری کو بلانے کا کوئی شوق نہیں کمپنیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔ ڈیڑھ لاکھ والے گریڈ بیس کے افسر کو من مانی کر کے کمپنیوں میں پچیس لاکھ پر تعینات کر دیا جاتا ہے۔

پنجاب میں صاف پانی کی فراہمی کے منصوبہ میں بے ضابطگیاں*

پنجاب حکومت کے وکیل نے وضاحت کی کہ کسی کو سفارش کی بنیاد پر نہیں رکھا تمام قواعد و ضوابط پورے کئے گئے ہیں۔

عدالت نے قرار دیا کہ ملک میں پیدا ہونے ہر ایک بچہ ایک لاکھ پینتیس لاکھ کا مقروض ہے مگر اب اس ملک میں جنگل کا قانون نہیں چلنے دیں گے۔

پنجاب حکومت کے وکیل نے درخواست کے قابل ہونے کے بارے میں اعتراض اٹھاتے ہوئے درخواست مسترد کرنے کی استدعا کی‘ سرکاری وکیل نے کمپنیوں کی تفصیلات پیش کرنے کے لیے مزید وقت مانگا جس پر عدالت نے پنجاب حکومت کو دس روز کی مزید مہلت دیتے ہوئے کارروائی 19 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔

یاد رہے کہ درخواست گزار عدالت میں دائر کردہ درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ صاف پانی منصوبے کے نام پر سرکاری خزانے کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ صاف پانی کے نام پر روڈ شو کا بیرون ممالک انعقاد کروا کے سرکار کا پیسہ خرچ کیا جا رہا ہے جبکہ افسران کے لیے بلٹ پروف گاڑیاں خریدی جا رہی ہیں۔

گزشتہ سماعت میں عدالت نے کہا تھاکہ کمپنیوں میں مرضی کی تعیناتیاں کر کے ادارے کو تباہ کرنے کی کوشش تو نہیں کی جا رہی۔ کمپنیوں کی تفصیلات فراہم کیوں نہیں کی جارہی ہیں، کیا یہ ایسٹ انڈیا کمپنی ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top