کلفٹن میں کھانے سے بچوں کی ہلاکت، والد نے ریسٹورنٹ مالک سے سمجھوتا کرلیا
The news is by your side.

Advertisement

کلفٹن میں کھانے سے بچوں کی ہلاکت، والد نے ریسٹورنٹ مالک سے سمجھوتا کرلیا

کراچی : کلفٹن کےریسٹورنٹ میں مبینہ زہرخورانی سےبچوں کی ہلاکت کامعاملے پر والد نے ریسٹورنٹ مالک سے سمجھوتا کرلیا اور سندھ ہائی کورٹ کو بھی مطلع کردیا ہے ، بچوں کی موت کے بعد والد نے ریسٹورنٹ مالک کیخلاف ایکشن کا مطالبہ کیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق کلفٹن کے ریسٹورنٹ ایریزوناگرل میں کھانا کھانے کے بعد مبینہ زہرخورانی سے ننھے احمد اور محمد کی ہلاکت کے معاملے پر فریقین نے صلح کر لی، سندھ ہائی کورٹ میں دوران سماعت بچوں کے والد نے عدالت کو بتایا ایری زونا گرل کے مالکان کے ساتھ سمجھوتاہوگیا ہے۔

جس پر عدالت نے سمجھوتے کی نقل ٹرائل کورٹ میں پیش کرنے کی ہدایت کردی۔

خیال رہے بچوں کی ہلاکت کے بعد بچوں کے والد نے ایریزوناگرل کےمالک پرذمہ داری عائد کرتے ہوئے گرفتاری کامطالبہ کیاتھا۔

فوڈ اتھارٹی کی رپورٹ کے مطابق بچوں کی موت زہرخورانی سے ہوئی تھی، ریسٹورنٹ سے ملنےوالےزائدالعیاد گوشت میں ایکولائی کی مقدار زیادہ تھی، جس سےاموات واقع ہوئی۔

مزید پڑھیں : بچوں کی موت ہوٹل کا کھانا کھانے سے ہی ہوئی، فرانزک رپورٹ میں تصدیق

بعد ازاں فرانزک رپورٹ میں بچوں کی موت کا سبب معلوم ہونے کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ریسٹورنٹ کے دو منیجرز عامر اختر اور عرفان علیم کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا تھا۔

سندھ فوڈ اتھارٹی کےقانون کےمطابق ملزمان کو عمر قیدکی سزابھی ہوسکتی تھی، کنٹونمنٹ کےقوانین کی رو سےزیادہ سےزیادہ تین سال تک سزا دی جاسکتی تھی۔

یاد رہے کہ نومبر 2018 میں کراچی کے علاقے کلفٹن کی زمزمہ اسٹریٹ پر واقع ریسٹورنٹ میں دو بچے مضر صحت کھانا کھانے سے جاں بحق ہوگئے تھے جبکہ بچوں کی والدہ کو بھی تشویش ناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

ڈائریکٹر سندھ فوڈ اتھارٹی ابرار شیخ نے کہا تھا کہ ریسٹورنٹ میں بچا ہوا کھانا فریزر میں رکھا ہوا تھا، ریسٹورنٹ کا کچن بدبو دار نکلا، سندھ فوڈ اتھارٹی نے 2 لیبارٹریز سے ٹیسٹنگ کنٹریکٹ کیا ہوا ہے۔

ابرار شیخ کے مطابق ریسٹورنٹ اور پلے لینڈ کو سیل کرکے کھانے اور ٹافیوں کے نمونے ٹیسٹنگ کے لیے بھجوا دئیے تھے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں