اتوار, اگست 16, 2026
اشتہار

2050ء کا کراچی: فیصلہ موسم نہیں‌، ہم کریں‌ گے

اشتہار

حیرت انگیز

اکیسویں صدی کو اگر شہروں کی صدی کہا جائے تو شاید یہ مبالغہ نہ ہو۔ دنیا کی معیشت، تجارت، صنعت، اختراع، تحقیق اور ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز آج شہر ہیں۔ یہی شہر کروڑوں انسانوں کو روزگار، تعلیم، علاج اور بہتر زندگی کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ لیکن اسی صدی نے ایک ایسی حقیقت بھی ہمارے سامنے رکھ دی ہے جس نے شہری ترقی کے پورے فلسفے کو بدل کر رکھ دیا ہے اور وہ حقیقت ہے موسمیاتی تبدیلی۔

آج موسمیاتی تبدیلی صرف ماحولیاتی ماہرین کی تشویش نہیں رہی بلکہ یہ عالمی معیشت، قومی سلامتی، خوراک، پانی، صحت اور شہری منصوبہ بندی کا بنیادی مسئلہ بن چکی ہے۔ شدید گرمی کی لہریں، بے ترتیب بارشیں، شہری سیلاب، طویل خشک سالی، سمندری سطح میں اضافہ اور شدید موسمی واقعات اب مستقبل کے خدشات نہیں بلکہ موجودہ حقیقت ہیں۔ دنیا کے تقریباً ہر خطے میں شہروں کو ایسے موسمیاتی دباؤ کا سامنا ہے جس کی شدت کا چند دہائیوں پہلے تصور بھی نہیں کیا جاتا تھا۔

اسی بدلتی ہوئی حقیقت نے شہری ترقی کے تصور کو بھی تبدیل کر دیا ہے۔ ایک وقت تھا جب کسی شہر کا معیار فلک بوس عمارتوں، کشادہ شاہراہوں، صنعتی علاقوں یا تجارتی سرگرمیاں ہوتی تھیں، لیکن آج عالمی معیار مختلف ہے۔ اب کسی شہر کی اصل طاقت اس کی موسمیاتی لچک (Climate Resilience) سمجھی جاتی ہے، یعنی وہ صلاحیت جس کے ذریعے شدید گرمی، غیر معمولی بارش، شہری آبادی میں سیلاب، سمندری خطرات اور دیگر موسمیاتی دباؤ کے باوجود کوئی شہر وہاں کے لوگوں، اپنی معیشت اور اپنے بنیادی ڈھانچے کو محفوظ رکھ سکے۔

یہ تبدیلی محض نظریاتی نہیں بلکہ سائنسی شواہد پر مبنی ہے۔ عالمی موسمیاتی تنظیم (WMO) کے مطابق 2025 سے 2029 کے درمیان کم از کم ایک سال کے عالمی تاریخ کا گرم ترین سال بننے کا امکان 80 فیصد ہے، جب کہ اسی عرصے میں کم از کم ایک سال کے لیے عالمی اوسط درجۂ حرارت صنعتی دور سے پہلے کی سطح سے 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کرنے کا امکان 86 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ پہلی مرتبہ پانچ سالہ اوسط درجۂ حرارت کے بھی 1.5 ڈگری کے قریب یا اس سے اوپر رہنے کا امکان 70 فیصد بتایا گیا ہے۔ یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ موسمیاتی خطرات اب استثنا نہیں بلکہ نئی عالمی حقیقت بنتے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب دنیا تیزی سے شہری ہوتی جا رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق 2050 تک دنیا کی تقریباً 68 فیصد آبادی شہروں میں آباد ہوگی، جب کہ عالمی بینک کے مطابق عالمی معیشت کا تقریباً 80 فیصد حصہ پہلے ہی شہری مراکز میں پیدا ہو رہا ہے۔ اس کا مطلب واضح ہے کہ اگر شہر موسمیاتی خطرات کے سامنے کمزور پڑتے ہیں تو اس کے اثرات صرف شہری زندگی تک محدود نہیں رہتے بلکہ قومی اور عالمی معیشت بھی اس سے متاثر ہوتی ہے۔

اسی پس منظر میں دنیا کے بڑے شہروں نے اپنی ترقیاتی حکمتِ عملی تبدیل کرنا شروع کر دی ہے۔ اب سڑکیں، پل، رہائشی بستیاں، صنعتی زون، بندر گاہیں، پارک، نکاسی آب کا نظام، پانی کی فراہمی، توانائی کے منصوبے اور ساحلی ترقی، سب کو موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں ڈیزائن کیا جا رہا ہے۔ کلائمٹ ریزلینٹ سٹی اب ایک ماحولیاتی نعرہ نہیں بلکہ شہری ترقی کا عالمی معیار بن چکا ہے۔ یہی عالمی منظر نامہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے لیے بھی ایک اہم سوال کھڑا کرتا ہے۔

کراچی صرف سندھ کا دارالحکومت یا ایک بڑا شہری مرکز نہیں بلکہ پاکستان کی اقتصادی شہ رگ ہے۔ ملک کی سب سے بڑی بندرگاہیں، مالیاتی ادارے، صنعتی سرگرمیاں، برآمدات، درآمدات اور لاکھوں افراد کا روزگار اس شہر سے وابستہ ہے۔ اگر کراچی کا شہری نظام متاثر ہوتا ہے تو اس کی بازگشت پورے ملک کی معیشت میں سنائی دیتی ہے۔ بدقسمتی سے کراچی ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں دو بحران ایک دوسرے سے مل چکے ہیں۔ ایک طرف موسمیاتی تبدیلی کی شدت مسلسل بڑھ رہی ہے، دوسری طرف کئی دہائیوں کی غیر منظم شہری توسیع، قدرتی آبی گزرگاہوں پر تجاوزات، کم ہوتے سبز علاقے، فضائی آلودگی، پانی کا بحران، کمزور شہری حکمرانی اور غیر مربوط منصوبہ بندی نے شہر کی قدرتی لچک کو کمزور کر دیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ وہ موسمیاتی واقعات جو بہتر منصوبہ بندی والے شہروں میں قابلِ انتظام ہوتے ہیں، کراچی میں بڑے انسانی، معاشی اور انتظامی بحران میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ آج کراچی کے بارے میں بنیادی سوال صرف یہ نہیں کہ موسمیاتی تبدیلی اسے کس حد تک متاثر کرے گی، بلکہ یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی اس شہر کی ترقی کو گزشتہ صدی کے منصوبہ بندی کے اصولوں پر استوار رکھنا چاہتے ہیں، یا پھر اسے اکیسویں صدی کے موسمیاتی حقائق کے مطابق ازسرِنو تشکیل دینے کے لیے تیار ہیں؟ یہ سوال صرف حکومت یا شہری اداروں سے متعلق نہیں بلکہ صنعت، کاروبار، جامعات، ماہرین، سول سوسائٹی اور ہر اس شہری سے وابستہ ہے جو کراچی کو آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ، پائیدار اور خوشحال شہر دیکھنا چاہتا ہے۔ کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ کراچی کا مستقبل صرف کراچی کا مستقبل نہیں، بلکہ پاکستان کی معیشت، قومی سلامتی اور پائیدار ترقی کا مستقبل بھی ہے۔ اسی حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے اب یہ جاننا ضروری ہے کہ آخر وہ کون سے عوامل ہیں جنہوں نے کراچی کو موسمیاتی اعتبار سے اس قدر حساس بنا دیا ہے، اور دنیا کے دوسرے ساحلی شہروں کے مقابلے میں یہ شہر زیادہ خطرات کا سامنا کیوں کر رہا ہے۔

کراچی کا بحران: جب موسمیاتی تبدیلی، آبادی اور ناقص منصوبہ بندی بہم ہو جائیں

کراچی کا نام آتے ہی ذہن میں ایک ایسے شہر کا تصور ابھرتا ہے جو سمندر کے کنارے آباد ہے، جہاں صنعت کا پہیہ چلتا ہے، جہاں پاکستان کی سب سے بڑی بندرگاہیں ملکی تجارت کا بوجھ اٹھاتی ہیں، جہاں مالیاتی ادارے قومی معیشت کی نبض پر ہاتھ رکھے ہوئے ہیں اور جہاں ہر روز لاکھوں لوگ بہتر مستقبل کی تلاش میں اپنی جدوجہد جاری رکھتے ہیں۔ لیکن اسی شہر کی ایک دوسری تصویر بھی ہے؛ ایسی تصویر جو موسمیاتی تبدیلی، غیر منظم شہری پھیلاؤ اور کمزور منصوبہ بندی کے باعث ہر گزرتے سال کے ساتھ زیادہ پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔

کراچی کا موجودہ بحران صرف اس بات سے نہیں سمجھا جا سکتا کہ بارشیں زیادہ ہو رہی ہیں یا گرمی کی شدت بڑھ گئی ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ شہر کی ترقی کئی دہائیوں تک ایسے انداز میں ہوتی رہی جس میں قدرتی ماحولیاتی نظام کو شہری منصوبہ بندی کا حصہ بنانے کے بجائے اکثر نظر انداز کر دیا گیا۔ نتیجتاً جب موسمیاتی تبدیلی نے اپنے اثرات دکھانا شروع کیے تو کراچی کا شہری ڈھانچہ ان کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار نہیں تھا۔

قدرت نے کراچی کو ایک مضبوط قدرتی دفاعی نظام عطا کیا تھا۔ ملیر اور لیاری کے دریائی نظام، درجنوں برساتی نالے، ساحلی دلدلی علاقے، مینگروز کے جنگلات اور سمندری ہوائیں اس شہر کے قدرتی توازن کا حصہ تھے۔ بارش کا پانی انہی راستوں سے سمندر تک پہنچتا، مینگروز ساحلی لہروں کی شدت کم کرتے اور کھلے سبز علاقے گرمی کے اثرات کو معتدل رکھنے میں مدد دیتے تھے۔ یہ نظام کسی انجینئرنگ منصوبے کا نہیں بلکہ فطرت کی صدیوں پر محیط منصوبہ بندی کا نتیجہ تھا۔

بدقسمتی سے شہری توسیع کے ساتھ اس قدرتی نظام پر مسلسل دباؤ بڑھتا گیا۔ آبادی میں تیز رفتار اضافہ، رہائشی اور تجارتی تعمیرات، قدرتی گزرگاہوں پر تجاوزات، غیر مؤثر ٹھوس کچرا انتظام، کمزور بلدیاتی نظام اور سر سبز علاقوں میں مسلسل کمی نے شہر کی قدرتی لچک کو کمزور کر دیا۔ آج جب شدید بارش ہوتی ہے تو مسئلہ صرف بارش کی مقدار نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ پانی کے گزرنے کے قدرتی راستے پہلے جیسے نہیں رہے۔

یہ صورتحال عالمی اداروں کی رپورٹوں میں بھی نمایاں طور پر سامنے آتی ہے۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کے تعاون سے تیار کیے گئے ”کراچی کلائیمٹایکشن پلان“ میں کراچی کو ایک ایسے میگا سٹی کے طور پر بیان کیا گیا ہے جہاں شدید گرمی، شہری سیلاب، فضائی آلودگی، پانی کی قلت، ساحلی خطرات اور غیر منصوبہ بند شہری توسیع ایک دوسرے سے مل کر موسمیاتی خطرات میں اضافہ کر رہے ہیں۔ اسی منصوبے کے مطابق شہر کی آبادی تقریباً دو کروڑ چار لاکھ تک پہنچ چکی ہے، جب کہ آئندہ برسوں میں اس میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پانی، ٹرانسپورٹ، صحت، رہائش، توانائی اور نکاسی آب جیسے شعبوں پر دباؤ بھی مسلسل بڑھتا جائے گا۔

کراچی کی ایک اور نمایاں کمزوری اربن ہیٹ آئی لینڈ کا بڑھتا ہوا اثر ہے۔ جب کسی شہر میں درخت کم ہوتے جائیں، کھلی زمین کنکریٹ اور اسفالٹ سے ڈھک جائے اور بلند عمارتوں کا جال پھیل جائے تو شہر اپنے اردگرد کے علاقوں کے مقابلے میں زیادہ گرم ہو جاتا ہے۔ کراچی میں بھی یہی رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے۔ دن کے وقت جذب ہونے والی حرارت رات گئے تک خارج ہوتی رہتی ہے، جس سے گرمی کی لہروں کے دوران شہریوں کو راحت نہیں ملتی۔ اس کا سب سے زیادہ اثر بزرگوں، بچوں، مزدوروں، ٹریفک پولیس، صفائی کے عملے اور کھلے آسمان تلے کام کرنے والے افراد پر پڑتا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی کا ایک اور اہم پہلو پانی ہے۔ کراچی ایک ایسا شہر ہے جہاں ایک طرف پانی کی قلت مسلسل سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے، جب کہ دوسری طرف مون سون کے دوران کروڑوں لیٹر بارش کا پانی مناسب منصوبہ بندی نہ ہونے کے باعث ضائع ہو کر سمندر میں چلا جاتا ہے۔ دنیا کے کئی شہروں نے بارش کے پانی کو اپنے آبی نظام کا حصہ بنا لیا ہے، لیکن کراچی ابھی تک اس شعبے میں اپنی مکمل صلاحیت سے فائدہ نہیں اٹھا سکا۔

ساحلی شہر ہونے کی وجہ سے کراچی کو سمندری سطح میں تدریجی اضافے، ساحلی کٹاؤ اور طوفانی لہروں جیسے خطرات کا بھی سامنا ہے۔ اس تناظر میں مینگروز کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ یہ جنگلات صرف سمندری حیات کی افزائش گاہ نہیں بلکہ قدرتی حفاظتی دیوار بھی ہیں، جو ساحلی علاقوں کو لہروں کی شدت سے بچانے، کاربن جذب کرنے اور حیاتیاتی تنوع کو برقرار رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک اب مینگروز کی بحالی کو اپنی موسمیاتی حکمتِ عملی کا لازمی حصہ بنا چکے ہیں، کیونکہ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ قدرتی ماحولیاتی نظام اکثر مہنگے مصنوعی حفاظتی منصوبوں سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔

کراچی کے بحران کو صرف ماحولیاتی زاویے سے دیکھنا بھی کافی نہیں ہوگا، کیونکہ یہ شہر پاکستان کی اقتصادی شہ رگ ہے۔ اگر شدید گرمی، شہری سیلاب یا بنیادی ڈھانچے کی خرابی بار بار معاشی سرگرمیوں میں خلل ڈالے تو اس کے اثرات صرف کراچی تک محدود نہیں رہتے بلکہ قومی معیشت تک پہنچتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں اب کلائیمٹ ریزیلینٹ کو ماحولیات کی نہیں بلکہ اقتصادی تحفظ، سرمایہ کاری اور قومی استحکام کی حکمتِ عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ان تمام حقائق سے ایک بنیادی نتیجہ اخذ ہوتا ہے۔ کراچی کا اصل مسئلہ صرف موسمیاتی تبدیلی نہیں بلکہ وہ ترقیاتی ماڈل بھی ہے جس نے فطرت کو شہری منصوبہ بندی سے الگ سمجھا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اس سوچ کو بدلا جائے، کیونکہ اکیسویں صدی میں کوئی بھی شہر صرف سڑکوں، عمارتوں اور صنعتی منصوبوں سے جدید نہیں بنتا؛ وہ اس وقت جدید بنتا ہے جب اس کی ترقی موسمیاتی حقیقت کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ یہیں سے کراچی کے لیے ایک نئی بحث شروع ہوتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ دنیا نے موسمیاتی تبدیلی کا سامنا کیسے کیا، بلکہ یہ ہے کہ دنیا نے اپنے شہروں کو کس طرح تبدیل کیا، اور کراچی ان تجربات سے کیا سیکھ سکتا ہے؟

دنیا نے راستہ بدل لیا، کیا کراچی بھی بدلنے کے لیے تیار ہے؟

موسمیاتی تبدیلی نے دنیا کے تقریباً ہر بڑے شہر کو ایک ہی سوال کے سامنے لا کھڑا کیا کہ کیا ترقی اور ماحولیات کو الگ الگ رکھا جا سکتا ہے؟ آج اس سوال کا جواب دنیا کے بیشتر ترقی یافتہ ممالک "نہیں” میں دے چکے ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں میں شہری منصوبہ بندی کا فلسفہ بنیادی طور پر تبدیل ہو گیا ہے۔ اب سڑکیں، پل، بندرگاہیں، رہائشی منصوبے، صنعتی زون، پانی کی فراہمی، نکاسی آب، توانائی، پارکس اور ساحلی ترقی الگ الگ شعبے نہیں رہے بلکہ ایک ہی مربوط موسمیاتی حکمتِ عملی کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ اسی تبدیلی نے Climate Resilient City کے تصور کو جنم دیا، جس کا بنیادی مقصد صرف آفات سے بچنا نہیں بلکہ ایسا شہری نظام تشکیل دینا ہے جو موسمیاتی دباؤ کے باوجود اپنی معیشت، بنیادی ڈھانچے اور شہری زندگی کو برقرار رکھ سکے۔

اس تصور کو عملی شکل دینے والوں میں سب سے نمایاں مثال Rotterdam کی ہے۔ سمندر کی سطح سے نیچے واقع ہونے کے باوجود روٹرڈیم آج دنیا کے محفوظ ترین ساحلی شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کامیابی کی وجہ صرف جدید انجینئرنگ نہیں بلکہ ایک بنیادی فلسفہ ہے کہ پانی سے جنگ نہیں بلکہ اس کے ساتھ ہم آہنگی اختیار کی جائے۔ اسی سوچ کے تحت شہر میں واٹر پلازے تعمیر کیے گئے، جہاں عام دنوں میں شہری سرگرمیاں جاری رہتی ہیں، لیکن شدید بارش کے دوران یہی مقامات عارضی آبی ذخائر بن جاتے ہیں۔ بارش کا پانی زمین میں جذب کرنے والی سڑکیں، سبز چھتیں، زیرِ زمین ذخیرہ گاہیں اور قدرتی آبی گزرگاہوں کی بحالی نے شہر کو موسمیاتی لحاظ سے کہیں زیادہ محفوظ بنا دیا۔ یہ ماڈل کراچی کے لیے ایک واضح پیغام رکھتا ہے۔ ہم ہر سال بارش کے بعد پانی نکالنے پر اربوں روپے خرچ کرتے ہیں، جب کہ دنیا کے کئی شہر اسی پانی کو محفوظ کر کے اپنے آبی وسائل مضبوط بنا رہے ہیں۔ اگر کراچی اپنے پارکوں، کھلے میدانوں، نالوں اور شہری ڈھانچے کو اسی سوچ کے مطابق ازسرِنو ترتیب دے تو شہری سیلاب کی شدت میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔

اسی طرح کوپن ہیگن نے 2011 کے تباہ کن شہری سیلاب کے بعد صرف نکاسی آب کا نظام بہتر نہیں بنایا بلکہ پورے شہر کو موسمیاتی نقطۂ نظر سے دوبارہ ڈیزائن کیا۔ Cloudburst Managment Plan کے تحت پارک، کھیل کے میدان، سڑکیں اور عوامی مقامات بارش کے پانی کی قدرتی گزرگاہوں میں تبدیل کیے گئے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ شہر نے مستقبل کے سیلابی خطرات کو نمایاں حد تک کم کر لیا۔ یہ مثال کراچی کے لیے اس لیے اہم ہے کہ یہاں بھی ہر نئی سڑک، ہر رہائشی منصوبہ، ہر انڈر پاس اور ہر تجارتی مرکز کی منصوبہ بندی میں موسمیاتی خطرات کو بنیادی شرط بنایا جاسکتا ہے۔ اگر منصوبہ بندی کا آغاز ہی Climate Impact assessment سے ہو تو بعد میں ہونے والے نقصانات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔

پھر سنگا پورکی مثال سامنے آتی ہے، جہاں بارش کے پانی کو مسئلہ نہیں بلکہ قومی اثاثہ سمجھا گیا۔ نہروں کو دوبارہ قدرتی شکل دی گئی، بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کا نظام بنایا گیا، شہری پارکوں کو پانی جذب کرنے والے علاقوں میں تبدیل کیا گیا اور آبی وسائل کے انتظام کو شہری ترقی سے جوڑ دیا گیا۔ کراچی جیسے شہر کے لیے یہ ماڈل غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک ایسا شہر جہاں ایک طرف پانی کی قلت ہو اور دوسری طرف ہر مون سون میں قیمتی بارش کا پانی ضائع ہو جائے، وہاں بارش کے پانی کو محفوظ بنانے، زیرِ زمین آبی ذخائر کو ری چارج کرنے اور رین واٹر ہارویسٹنگ کو قانونی تقاضا بنانے کا وقت آ چکا ہے۔

اسی طرح نیویارک سٹی نے Hurricane Sandy کے بعد صرف حفاظتی دیواریں تعمیر نہیں کیں بلکہ یہ تسلیم کیا کہ قدرتی ماحولیاتی نظام کو نظرانداز کر کے ساحلی شہر محفوظ نہیں رہ سکتے۔ چنانچہ ساحلی پارک، شہری جنگلات، جدید نکاسی آب، گرین انفراسٹرکچر اور سخت تعمیراتی ضابطے ایک مربوط حکمتِ عملی کے تحت نافذ کیے گئے۔ یہی سوچ کراچی کی ساحلی پٹی کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ مینگروز کو خالی زمین سمجھنے کی غلطی اب مزید نہیں دہرائی جا سکتی۔ یہ جنگلات کراچی کے لیے قدرتی حفاظتی حصار، کاربن ذخیرہ، حیاتیاتی تنوع کا مرکز اور ساحلی معیشت کا اہم ستون ہیں۔ ان کا تحفظ ماحولیاتی ذمہ داری ہی نہیں بلکہ اقتصادی دانش مندی بھی ہے۔

ان تمام عالمی تجربات کا اگر ایک جملے میں خلاصہ کیا جائے تو وہ یہ ہے کہ دنیا نے ترقی اور موسمیاتی تحفظ کو ایک دوسرے کا متبادل نہیں بلکہ ایک دوسرے کا لازمی ساتھی بنا دیا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں کراچی کو بھی اپنی سوچ تبدیل کرنا ہوگی۔ آج بھی اگر کوئی ترقیاتی منصوبہ، ادارہ یا پالیسی ساز کراچی کی ترقی کو موسمیاتی تحفظ سے الگ دیکھتا ہے تو وہ دراصل مستقبل کے کراچی کو کمزور بنا رہا ہے۔ کیونکہ ایسی ترقی وقتی معاشی فوائد تو ضرور دے سکتی ہے، لیکن آنے والے برسوں میں یہی منصوبے شہری سیلاب، شدید گرمی، پانی کی قلت، ساحلی کٹاؤ، صحت کے بحران اور انفراسٹرکچر کی تباہی کی صورت میں کہیں زیادہ بھاری قیمت وصول کرتے ہیں۔

یہ بات بھی اب پوری وضاحت سے کہی جانی چاہیے کہ اکیسویں صدی میں کسی بھی شہر کی ترقی اس وقت تک پائیدار نہیں ہو سکتی جب تک اس کی ہر بڑی پالیسی، ہر ترقیاتی منصوبہ اور ہر سرمایہ کاری موسمیاتی حقیقت کو اپنی بنیاد نہ بنائے۔ اسی لیے کراچی کو اب ایک جامع Climate Resilience Master plan 2050 کی ضرورت ہے، جو صرف ماحولیات کا منصوبہ نہ ہو بلکہ ٹرانسپورٹ، رہائش، پانی، صنعت، توانائی، بندرگاہ، صحت، بلدیاتی نظام، شہری جنگلات، ساحلی انتظام اور آفات سے نمٹنے کی حکمتِ عملی کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرے۔ کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ کراچی کا مستقبل مزید تعمیرات سے نہیں، بہتر منصوبہ بندی سے محفوظ ہوگا۔ اور یہی منصوبہ بندی طے کرے گی کہ 2050 کا کراچی ایک بحران زدہ شہر ہوگا یا جنوبی ایشیا کا ایک کامیاب کلائمٹ ریزلینٹ سٹی۔

2050 کا کراچی: فیصلہ موسم نہیں، ہم کریں گے

اگر ہم 2050 کے کراچی کا تصور کریں تو ہمارے سامنے دو بالکل مختلف تصویریں ابھرتی ہیں۔ پہلی تصویر ایک ایسے شہر کی ہے جس نے موسمیاتی تبدیلی کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ جہاں گرمی کی لہریں پہلے سے زیادہ طویل اور زیادہ جان لیوا ہو چکی ہیں، مون سون کی بارشیں چند گھنٹوں میں پورے شہر کو مفلوج کر دیتی ہیں، پانی کی قلت روزمرہ زندگی کا مستقل حصہ بن چکی ہے، ساحلی علاقوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے، صحت کا نظام شدید موسمی دباؤ کا شکار ہے اور انفراسٹرکچر کی بار بار بحالی پر قومی وسائل خرچ ہو رہے ہیں۔ اس کراچی میں سب سے زیادہ نقصان ہمیشہ کی طرح ان لوگوں کو پہنچتا ہے جن کے پاس سب سے کم وسائل ہیں۔

دوسری تصویر ایک ایسے شہر کی ہے جس نے بروقت اپنا راستہ بدل لیا۔ جہاں ترقیاتی منصوبے موسمیاتی خطرات کو سامنے رکھ کر تیار کیے جاتے ہیں، ملیر اور لیاری کے قدرتی آبی نظام کو دوبارہ زندہ کیا جا چکا ہے، بارش کا پانی ضائع ہونے کے بجائے محفوظ کیا جا رہا ہے، شہری جنگلات اور سبز راہداریاں گرمی کی شدت کم کر رہی ہیں، مینگروز ساحلی دفاع کی مضبوط قدرتی ڈھال بن چکے ہیں، جدید ابتدائی انتباہی نظام شہریوں کو بروقت خبردار کرتے ہیں اور ہر نئی سرمایہ کاری مستقبل کے موسمیاتی تقاضوں سے ہم آہنگ ہوتی ہے۔ ان دونوں تصویروں میں سے کون سی حقیقت بنے گی، اس کا فیصلہ موسم نہیں کرے گا، اس کا فیصلہ آج کی منصوبہ بندی کرے گی۔

کراچی کے لیے اب سب سے اہم ضرورت ایک ایسے جامع وژن کی ہے جس میں موسمیاتی موافقت ہر شعبے کی بنیاد بن جائے۔ ٹرانسپورٹ، رہائش، صنعت، پانی، توانائی، صحت، تعلیم، بندرگاہ، بلدیاتی خدمات اور شہری انفراسٹرکچرغرض کہ ہر شعبہ ایک مشترکہ موسمیاتی حکمتِ عملی کے تحت آگے بڑھے۔ یہی وہ سوچ ہے جس نے دنیا کے کئی بڑے شہروں کو زیادہ محفوظ، زیادہ پائیدار اور زیادہ مسابقتی بنایا ہے۔اس مقصد کے لیے ایک ”کلائمٹ ریزیلنٹ ماسٹر پلان 2050“ محض ایک پالیسی دستاویز نہیں بلکہ کراچی کے مستقبل کا قومی معاہدہ ہونا چاہیے۔

اس میں واضح اہداف، قانونی تحفظ، مالی وسائل، ادارہ جاتی ہم آہنگی، سائنسی تحقیق، شہری شمولیت اور مسلسل نگرانی کو بنیادی حیثیت دی جائے۔ اس کے بغیر موسمیاتی موافقت مختلف منصوبوں اور محکموں تک محدود رہے گی اور شہر ایک متحد سمت اختیار نہیں کر سکے گا۔یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ موسمیاتی تحفظ صرف ماحولیات کے محکمے کی ذمہ داری نہیں۔ جامعات، تحقیقاتی ادارے، بلدیاتی حکومتیں، صنعت، تعمیراتی شعبہ، بندرگاہی ادارے، نجی سرمایہ کار، میڈیا، سول سوسائٹی اور عام شہری، سب اس تبدیلی کے شراکت دار ہیں۔ ایک محفوظ کراچی صرف سرکاری فیصلوں سے نہیں بلکہ اجتماعی شعور اور مشترکہ ذمہ داری سے وجود میں آئے گا۔

اس پورے تجزیے کا سب سے اہم نکتہ یہی ہے کہ ترقی اور موسمیاتی تحفظ کو اب ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ جو بھی ترقیاتی منصوبہ، پالیسی یا سرمایہ کاری کراچی کی معاشی ترقی کو موسمیاتی حقیقت سے الگ رکھ کر ترتیب دی جائے گی، وہ وقتی فوائد تو دے سکتی ہے، لیکن طویل مدت بعد وہی منصوبے شہری سیلاب، شدید گرمی، پانی کے بحران، ساحلی کٹاؤ، صحت کے بڑھتے ہوئے مسائل اور انفراسٹرکچر کے نقصانات کی صورت میں کہیں زیادہ بھاری قیمت وصول کریں گے۔

اس کے برعکس جو شہر موسمیاتی موافقت کو اپنی ترقی کی بنیاد بناتے ہیں، وہ صرف ماحولیات ہی نہیں بلکہ اپنی معیشت، سرمایہ کاری، روزگار، صحت، معیارِ زندگی اور قومی استحکام کو بھی مضبوط بناتے ہیں۔ اسی لیے آج دنیا میں Climate Resilient کو ماحولیاتی نعرہ نہیں بلکہ اقتصادی ترقی، شہری سلامتی اور قومی منصوبہ بندی کا بنیادی ستون سمجھا جا رہا ہے۔

کراچی بھی یہ مقام حاصل کر سکتا ہے۔ اس کے پاس ملک کی سب سے بڑی معاشی صلاحیت موجود ہے، تجربہ کار ماہرین موجود ہیں، جامعات اور تحقیقی ادارے موجود ہیں، نوجوان آبادی موجود ہے اور ایک ایسا جغرافیہ موجود ہے جو درست منصوبہ بندی کے ساتھ اسے جنوبی ایشیا کے کامیاب ترین ساحلی شہروں میں شامل کر سکتا ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم اپنے ترقیاتی تصور کو بدلنے کا حوصلہ پیدا کریں۔

آخر میں سوال صرف یہ نہیں کہ ہم کراچی کو کیسا شہر بنانا چاہتے ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ ہم آنے والی نسلوں کے لیے کیسا پاکستان دینا چاہتے ہیں۔ کیونکہ کراچی کی مضبوطی صرف ایک شہر کی مضبوطی نہیں، بلکہ پاکستان کی اقتصادی، سماجی اور ماحولیاتی مضبوطی کی ضمانت ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ شہر صرف قدرتی آفات سے تباہ نہیں ہوتے، وہ غلط ترجیحات، کمزور منصوبہ بندی اور بروقت فیصلے نہ کرنے سے بھی کمزور ہو جاتے ہیں۔

کراچی کے پاس اب بھی وقت ہے۔ اگر آج ہم نے موسمیاتی تبدیلی کو قومی ترقی کے مرکز میں جگہ دے دی، اگر ہم نے فطرت کو شہری منصوبہ بندی کا حصہ بنا لیا، اگر ہم نے سائنسی تحقیق کو فیصلہ سازی کی بنیاد بنایا اور اگر ہم نے پائیداری کو ترقی کا معیار تسلیم کر لیا، تو 2050 کا کراچی ایک ایسا شہر ہو سکتا ہے جس پر پاکستان فخر کرے۔ لیکن اگر ہم نے یہ موقع گنوا دیا تو تاریخ شاید یہ لکھے گی کہ پاکستان کا سب سے بڑا شہر موسمیاتی تبدیلی سے کم اور اپنی منصوبہ بندی کی غلطیوں سے زیادہ کمزور ہوا۔ کراچی کا فیصلہ کن لمحہ آ چکا ہے۔ اب فیصلہ موسم نہیں، ہم کریں گے۔

اہم ترین

محمود عالم خالد
محمود عالم خالد
گزشتہ 20 برسوں سے محمود عالم خالد ماحولیاتی و موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے کام کر رہے ہیں۔ وہ ماحولیاتی جریدے فروزاں کے ایڈیٹر ہیں اور کئی قومی و بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت کرچکے ہیں۔ ماحولیات سے متعلق ان کے مضامین اور کالم قومی سطح کے مختلف اخبارات اور جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔ وہ شمالی علاقہ جات اور ڈیزرٹ ایریا میں فیلڈ ورک بھی کرتے ہیں جبکہ کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹر کی نیشنل کلائمٹ چینج کمیٹی کے ڈپٹی چیئرمین اور فیڈریشن آف پاکستان کی انوائرمینٹ کمیٹی کے رکن بھی رہے ہیں۔

مزید خبریں