The news is by your side.

اے آر وائی نیوزکی بندش، ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری

کراچی: اے آر وائی نیوز کی بندش پر ملک بھر میں صحافیوں سمیت وکلا، سول سوسائٹی کے ارکان اور تاجروں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کے مقبول ترین نیوز چینل اے آر وائی نیوز کے این او سی مسترد کئے جانے پر پاکستان بھر کے شہروں اور قصبوں میں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔

ان مظاہروں میں صحافیوں کے ساتھ ساتھ وکلا، سول سوسائٹی کے ارکان، مقامی تاجروں کے ساتھ ساتھ عوام کی کثیر تعداد شریک احتجاج ہے اور حکومتی ہتھکنڈوں کو فسطائیت قرار دے رہے ہیں۔

اے آروائی نیوز براہِ راست دیکھیں live.arynews.tv پر

ملک بھر میں جاری احتجاج پر ایک نظر

صوبہ سندھ

ملک کے مقبول ترین چینل کی بندش پر سندھ بھر کے صحافی، پریس کلب، سول سوسائٹی کے نمائندگان سمیت تاجر برادری نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

سکھرمیں اے آر وائی نیوز کا این او سی منسوخ کرنےکےخلاف وکلا نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرے سے خطاب میں وکلا رہنماؤں کا کہنا تھا کہ مشکل وقت میں وکلا برادری اےآر وائی نیوز کے ساتھ ہے وکلا رہنماؤں کا کہنا تھا کہ کسی صورت اے آر وائی نیوز کے ورکرز کے معاشی قتل پر خاموش نہیں رہ سکتے۔ٹنڈو محمد خان میں بھی پریس کلب، یونین آف جرنلسٹس اور الیکٹرانک میڈیا کیجانب سے اے آر وائی نیوز کےاین او سی منسوخ کرنےکے خلاف احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔

پنجاب بھر میں صحافی، وکلا اور تاجر سراپا احتجاج

اے آر وائی نیوز کی بندش کے خلاف پنجاب کے بیشتر شہروں اور قصبوں میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔

حافظ آباد میں ضلع بھر کےصحافیوں نے پریس کلب کےسامنےاحتجاج کیا اور کہا کہ حکومتی اقدام سے چار ہزارصحافیوں کا معاشی قتل کیا گیا ہے۔

احتجاج کے موقع پر صحافی برادری کی جانب سےامپورٹڈ حکومت نامنظور نامنظور کے نعرے بھی لگائے گئے۔قصور میں بھی اےآروائی نیوز کی بندش اور این او سی منسوخی کیخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں صحافتی تنظیموں، سیاسی سماجی شخصیات نے شرکت کی۔

پیرمحل میں بھی اےآروائی نیوزکی بندش پر وکلابرادری کی جانب سےمذمت کی گئی، وکلا رہنماؤں کا مطالبہ تھا کہ حکومت فوری اےآروائی نیوزکی نشریات کوبحال کرے۔

نارووال میں بھی اے آر وائی نیوز کا این او سی منسوخ کرنے پر صحافیوں کا پریس کلب پراحتجاج کیا۔

پیرمحل کی وکلا برادری نے اےآروائی نیوزکےاین اوسی منسوخی پراظہار تشویش کیا اور حکومت سے فوری اےآروائی نیوزکی نشریات کوبحال کرنے کا مطالبہ کیا۔

حافظ آباد کے پیرسید تفسیرحسن چن پیر نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت چار ہزار خاندانوں کا معاشی قتل بند کرے اور پاگل پن چھوڑ کر اے آر وائی کی نشریات بحال کرے۔

پشاور ہائی کورٹ بار کا بڑا مطالبہ

ملک کے دیگر شہروں کی طرح پشاور میں بھی اے آروائی نیوز کے لائسنس منسوخی کے خلاف مظاہرے ہوئے۔

صدرپشاورہائیکورٹ بارایسوسی ایشن رحمان اللہ نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بغیرنوٹس کےنشریات بندکرنا اورلائسنس منسوح کرنا خلاف قانون ہے۔

انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ادارہ آئین وقانون سےبالاترنہیں ہے، آئین ہرکسی کوفیئرٹرائل کاموقع دیتاہےہرکسی کواپنےدفاع کا حق ہے۔

بلوچستان بھی سراپا احتجاج

ملک کے دیگر صوبوں کی طرح بلوچستان میں بھی عوام کے مقبول ترین چینل اے آر وائی نیوز کی بندش پر عوام نے شدید ردعمل کا اظہار کیا۔

ژوب میں قبائلی رہنما عبدالستار کاکڑ سردارعصمت اللہ میاں خیل نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی حکومتی ہتھکنڈوں سے سچ کو دبایا نہیں جا سکتا، عوام اے آر وائی نیوز کے ساتھ ہے۔

انہوں نے بھی مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر اے آر وائی نیوز کی این او سی منسوخی کا حکم واپس لے۔

روجھان جمالی میں بھی اے آروائی نیوز کی این اوسی کی منسوخی پرنیشنل تحصیل پریس کلب کی جانب سے مذمت کی گئی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں