اترکھنڈ: ایک طرف بھارت میں کرونا کا وار جاری ہے تو دوسری جانب قدرتی آفات نے بھی اسے گھیرے میں لے رکھا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست اترکھنڈ میں بادل پھٹنے سے سیلاب آگیا، بادل پھٹنے کا واقعہ اترکھنڈ کےعلاقے دیوپریاگ میں پیش آیا،بادل پھٹنے سے شانتی ندی میں طغیانی آگئی اور اس نے ندی سے متقصل شانتی بازار میں تباہی مچادی۔
شدید طغیانی نے علاقے میں سیلابی صورت حال پیدا کردی، سیلابی ریلے کے باعث کئی عمارتیں زمین بوس ہوگئیں، جن میں اتراکھنڈ کے دیوپریاگ کا آئی ٹی آئی ٹاور بھی شامل ہے،قدرتی آفت کے نتیجے میں کافی مالی نقصانات ہوچکا ہے۔
مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ کرونا کے باعث لگائے گئے کرفیو کی وجہ سے علاقہ بڑے نقصان سے بچ گیا ہے۔
بادل کیسے پھٹتا ہے؟
نیوز ویب سائٹ سُجاگ کی رپورٹ کے مطابق بادل پھٹنا یا ‘کلاؤڈ برسٹ’ ایک ایسی موسمی صورتحال کو کہتے ہیں جس میں بہت تھوڑے وقت میں بہت زیادہ بارش پڑجاتی ہے۔ اِس دوران شدید گرج چمک کے ساتھ بڑے سائز کے اولے بھی پڑسکتے ہیں اور چند ہی منٹ میں بارش کی مقدار 25 ملی میٹر (تقریباً ایک انچ) تک پہنچ سکتی ہے۔
یہ صورتِ حال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب زمین کی سطح سے کچھ اوپر پائی جانے والی گرم ہوا بادلوں کے نچلے حصے سے ٹکراتی ہے اور انہیں بارش برسانے سے روک دیتی ہے۔ اس ٹکراؤ کے نتیجے میں بادلوں میں بخارات کے پانی میں تبدیل ہونے کا عمل بہت تیز ہوجاتا ہے۔
مون سون کے موسم میں یہ صورتحال اُس وقت پیدا ہوتی ہے جب خلیج بنگال اور بحیرۂ عرب سے اُٹھنے والے بادل میدانی علاقوں کو پار کرتے ہُوئے ہمالیہ کے پہاڑوں کا رخ کرتے ہیں، اس لئے پاکستان میں بادل پھٹنے کے واقعات عام طور پر شمالی پہاڑی علاقوں میں پیش آتے ہیں جن میں کشمیر کی وادی نیلم خاص طور پر قابل ذکر ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


