وزیر اعلیٰ‌ بلوچستان ثنا اللہ زہری نے استعفیٰ دے دیا Sanaullah
The news is by your side.

Advertisement

وزیر اعلیٰ‌ بلوچستان ثنا اللہ زہری نے استعفیٰ دے دیا

کوئٹہ: بلوچستان میں‌ جاری سیاسی کشمکش اپنے انجام کو پہنچی، وزیر اعلیٰ بلوچستان ثنا اللہ زہری نے استعفیٰ دے دیا ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ ن میں توڑ پھوڑ ایک حقیقت بن چکی ہے، ثنا اللہ زہری تحریک عدم اعتماد کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے۔ گورنر بلوچستان نے ان کا استعفیٰ قبول کر لیا ہے۔

یہ سن 1972 سے تیسرا موقع ہے، جب وزیر اعلیٰ بلوچستان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی گئی۔ صوبائی وزیر اعلیٰ کے ترجمان جان اچکزئی نے بھی ٹویٹر پر اس استعفے کی تصدیق کر دی ہے۔

یاد رہے کہ آج سابق وزیر داخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی نے ٹویٹر پر دعویٰ کیا تھا کہ ثنا اللہ زہری نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ قبل ازیں وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے اس بحران کو ٹالنے کے لیے بلوچستان کا دورہ کیا تھا، مگر یہ کاوشیں کارآمد ثابت نہیں ہوئیں۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ بلوچستان نے استعفیٰ دے دیا، سرفرازبگٹی کا دعویٰ

اس ضمن میں نواب ثنا اللہ زہری کا موقف سامنے آیا ہے، جس کے مطابق انھوں نے آرٹیکل130کی شق8کےتحت استعفیٰ دیا ہے، انھوں نے کہا ہے کہ اگر عوام نے مناسب سمجھا، تومیں ان کی خدمت جاری رکھوں گا خواہش ہےبلوچستان میں سیاسی عمل جاری رہے

واضح رہے کہ ثنا اللہ زہری پر کرپشن کے الزامات تھے۔

ثنا اللہ زہری کا موقف

استعفے کے بعد ثنا اللہ زہری کا موقف بھی سامنے آگیا ہے۔ سابق وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ میرے خلاف چند ساتھیوں نے عدم اعتماد کا اظہار کیا، کوشش کی کہ ان کے تحفظات دور کروں، وزیراعظم بھی کل کوئٹہ آئے، لیکن وہ کامیاب نہیں ہوسکے۔

انھوں نے مزید کہا کہ کوشش کی اتحادیوں سمیت اپوزیشن جماعتوں کو بھی ساتھ لےکر چلوں، سیاسی عمل کے ساتھ حکومتی عمل داری قائم کرنے کی کوشش کی۔

یہ بھی پڑھیں: نواب ثنااللہ زہری – پیدائش سے استعفے تک

انھوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں اکثریت تھی، لیکن پھر بھی سب کو ساتھ لے کر چلے، مخلوط حکومت چلانا آسان نہیں، سیاست میں آپ کی طاقت آپ کے ساتھی ہوتے ہیں، جب ساتھی ساتھ چھوڑ دیں، تو اقتدارسے چمٹے رہنا میرا شیوہ نہیں۔

 

نئے وزیر اعلیٰ کے لیے متوقع امیدوار

اطلاعات کے مطابق نئے وزیراعلیٰ بلوچستان کے لیے چار نام سامنے آ گئے ہیں۔ اس ضمن میں صالح بھوتانی، سرفرازبگٹی، جنگیزمری اور میرجان جمالی کا نام لیا جارہا ہے۔ چاروں متوقع امیدواروں کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہے۔

صوبائی اسمبلی کا اجلاس ملتوی

وزیر اعلیٰ کے استعفے کے بعد اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے اجلاس غیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا ہے۔

اس موقع پر اسپکر بلوچستان اسمبلی نے کہا کہ آئین کے تحت وزیراعلیٰ نے اپنا استعفیٰ دیا اور گورنر نے استعفیٰ منظورکر کے نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔

ثنا اللہ زہری کے استعفے کے بعد قدوس بزنجو نے تحریک عدم اعتماد کی قرارداد واپس لے لی اور اسپیکر نےاسمبلی کا اجلاس غیرمعینہ مدت کے لئے ملتوی کر دیا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر ضرور شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں