The news is by your side.

Advertisement

مولانا فضل الرحمان کو کے پی سے گزرنے نہیں دوں گا، وزیراعلیٰ کے پی محمود خان

پشاور : وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ فضل الرحمان کو کے پی سے گزرنے نہیں دوں گا اپنے بیان پر قائم رہوں گا، بی آرٹی مبنصوبے میں غلطی ضرور ہے لیکن کرپشن نہیں ہوئی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا منتخب ہونے کے بعد اے آر وائی نیوز کے پروگرام اعتراض ہے میں پہلا انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کی کارکردگی کے باعث وزیراعلیٰ منتخب ہوا، الیکشن کے بعد وزیراعظم عمران خان نے الگ ملاقات میں کہا کہ آپ کو وزیراعلیٰ بنانا چاہتا ہوں، وزیراعظم نے اعتماد کیا جس پر وزیراعلیٰ بننے کی حامی بھری۔

محمود خان نے آزادی مارچ کے حوالے سے کہا کہ فضل الرحمان اچانک آئے پہلے مذہبی نعرہ لگایا اور بعد میں کہا کہ آزادی مارچ کرنا چاہتا ہوں، ان کو صرف اقتدار میں رہنے کا شوق ہے۔

فضل الرحمان کو کے پی سے گزرنے نہیں دوں گا کے اپنے بیان پر قائم ہوں، جب ملک میں ڈرون حملے اور دہشت گردی ہورہی تھی تو اس وقت فضل الرحمان کہاں تھے؟ جبکہ وزیراعظم عمران خان نے اس وقت بھی کھل کر ڈرون اور دہشت گردی پر بات کی تھی، آج مولانا فضل الرحمان کو کیاتکلیف ہوگئی۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا مزید کہنا تھا کہ جس طرح مولانا چندہ جمع کررہے ہیں میں بھی انہیں روکوں گا، ہماری اپنی حکمت عملی ہے، قیام امن حکومت کی ذمہ داری ہے۔

محمود خان کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے جو دھرنا دیا تھا جس سے متعلق واضح مؤقف تھا جبکہ مولانا فضل الرحمان کے پاس کیا بیانیہ ہے؟ پہلے مذہبی بیانیہ اپنایا اور اب آزادی مارچ کا نام دیا گیا ہے۔

مہنگائی، ابترمعاشی حالت ہمیں ورثے میں ملی ہے، ابتر معاشی حالت درست کرنے میں وقت تو لگے گا، واضح مؤقف اور بیانیے کے ساتھ آئے، احتجاج سب کاحق ہے، مولانا فضل الرحمان نے یوٹرن نہیں بلکہ اباؤٹ ٹرن لیا ہے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے مزید کہا کہ بی آرٹی6ماہ میں بنانے کی تاریخ دینا ہماری غلطی تھی، بی آرٹی کو عبوری حکومت نے سبوتاژ کیا۔

بی آرٹی میں غلطی تسلیم کرتے ہیں لیکن اس میں کرپشن نہیں ہوئی، منصوبے کو توسیع دی گئی، اس وقت کا نگراں وزیراعلیٰ مولانافضل الرحمان کی جماعت سے تعلق رکھتا تھا۔

بی آرٹی کو اس سال مکمل کرلیا جائے گا، بی آر ٹی کو بنیاد بنا کرپی ٹی آئی کو نشانہ بنایا گیا، یہ منصوبہ ٹھیکیدار اور کنسلٹنٹ کے کام نہ کرنے کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوا۔

انہوں نے کہا کہ ریفارمز لانا حکومت کا کام ہے،ہر ادارے میں اصلاحات لانا چاہتے ہیں، احتجاجی ڈاکٹرز کو کہتا ہوں جو بھی مسائل ہیں آکر بات کریں، میڈیکل ریفارمز پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

ڈاکٹرز کی مرضی پر پوسٹنگ ہو تو تمام ڈاکٹرز پشاور میں ہی بیٹھیں گے، اسپتالوں کی کوئی نجکاری نہیں ہورہی، دور دراز علاقوں میں ڈاکٹرز جانےکو تیارنہیں ہوتے، ڈاکٹرز کے تحفظات دور کرنے کیلئےمیرے دروازے کھلے ہیں، ڈاکٹرز اگر قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرنا چاہتے ہیں تو اچھی بات ہے۔

محمود خان نے کہا کہ مجھے پوری پارٹی کی حمایت حاصل ہے، وزیراعظم کہہ چکے ہیں5سال کے لیے وزیراعلیٰ ہوں مدت پوری کرونگا، جو وزیر پرفارم نہیں کرے گا، اس کی وزارت تبدیل ہوگی،10سے15دن میں3سے4وزراء کے قلمدان تبدیل ہوں گے۔
ڈینگی سے متعکلق ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ سال2017میں ڈینگی کے باعث10سے12افراد جاں بحق ہوئے تھے، ڈینگی سے حفاظتی اقدامات پر ہماری خصوصی توجہ ہے، ڈینگی کو انشاءاللہ کنٹرول کرلیں گے، سابق فاٹا کیلئے10سال میں ایک ہزار ارب کا بجٹ رکھا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ نے بتایا کہ مالم جبہ میں کوئی بےضابطگی نہیں ہوئی ہے، مخالفین کو پتہ ہی نہیں مالم جبہ اسکینڈل ہے کیا؟ مالم جبہ میں مجموعی طورپر216ایکڑ اراضی کا معاملہ ہے بلکہ216اراضی میں سے بھی13 ایکڑ کا معاملہ ہے۔

نیب نے مالم جبہ سے متعلق سوالنامہ دیا تھا جس کا جواب دے دیا، مالم جبہ کیس میں نیب کو اپنے جوابات سے مطمئن کردیا ہے، مالم جبہ ریزورٹ پر میں نے کسی فیصلے پردستخط نہیں کیے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں