پشاور (7 جنوری 2026): وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ قربانیاں دے رہے ہیں اور دیتے رہیں گے مگر یہاں نیتوں کھوٹ ہے۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب ہم کہہ رہے تھے کہ دہشت گردی آ رہی ہے، تو ہمارا مذاق اڑایا جاتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں 21 سے زائد آپریشنز ہو چکے ہیں، اب ایک مرتبہ پھر آپریشن کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ بند کمروں کے فیصلوں نے ہمارے امن کو تباہ کر دیا ہے۔ نئے آپریشن سے پہلے قوم کو اعتماد میں لینا چاہیے۔
سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ ملک کی خاطر قربانیاں دے رہے ہیں اور ایک بار پھر قربانی دینے سے دریغ نہیں کریں گے، لیکن یہاں نیتوں میں کھوٹ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے 2 دن کے نوٹس پر ہی گھر بار چھوڑے اور آئی ڈی پیز بنے۔ آفریدی قوم میں آپریشنز سے قبل کوئی بھی بھیک نہیں مانگتا تھا لیکن جب آپریشن کے بعد ہمارے سربراہان قتل ہوئے، تو خواتین اور بچے بھیک مانگنے پر مجبورہیں۔
وزیراعلیٰ کے پی نے یہ بھی کہا کہ ایک خصوصی مائنڈ سیٹ ہے جنہیں اچھا نہیں لگتا ہمارے بچے تعلیم یافتہ ہوں۔ کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ، ہمارے بچوں کے ہاتھوں میں قلم کی جگہ بندوق ہو۔ لیکن ہمارے بچے اب بندوق نہیں اٹھائیں گے، بلکہ قلم کا استعمال کرینگے۔


