اسلام آباد (5 نومبر 2025): وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے 27 ویں آئینی ترمیم کو صوبائی خودمختاری پر ڈاکا قرار دے دیا ہے۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں آمد کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے 27 ویں آئینی ترمیم کو صوبائی خودمختاری پر ڈاکا قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ صوبائی خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ اپنی پارٹی کے بانی عمران خان سے ملاقات نہ کروائے جانے پر پارلیمنٹ میں قرارداد لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ میں نے ملاقات کی اجازت کیلیے ہائیکورٹ سے رجوع کیا، لیکن عدالتی احکامات پر بھی عمل نہیں ہوا اور عمران خان سے ملاقات نہیں کرائی گئی۔ جمہوری راستے اختیار کر رہا ہوں، لیڈر سے ملاقات میرا حق ہے۔
وزیراعلیٰ کے پی نے یہ بھی کہا کہ اس ملک میں سپریم پارلیمنٹ ہے۔ پارلیمانی سیشن میں شرکت کے لیے آیا ہوں، میں بانی سے ملاقات کے لیے آواز اٹھاؤں گا اور کل میری اپنے لیڈر عمران خان سے ملاقات ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان تحریک انصاف جمہوریت اور آئین کی محافظ ہے۔ جمہوریت کو کمزور کرنے کی ہر کوشش ناکام بنائیں گے اور صوبائی خودمختاری پر کسی قسم کے حملے کو برداشت نہیں کریں گے۔
سہیل آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کے پاس این ایف سی شیئر خیبر پختونخوا کا 19.4 فیصد بنتا ہے اور وفاق سے ہمارا ساڑھے سات ارب روپے سے زیادہ کا حق بنتا ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبائی خودمختاری برقرار رہنی چاہیے اور صوبوں کو ان کے جائز حقوق ملنے چاہییں۔


