پشاور: خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ انصاف ملتا تو پی ٹی آئی احتجاجی سیاست نہ کرتی۔
یہ بات انہوں نے پشاور میں انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی ان کا کہنا تھا کہ میں نے اسٹوڈنٹ فیڈریشن سے شروعات کی اور آج وزیر اعلیٰ ہوں، بانی پی ٹی آئی نے پاکستانی سیاست کو ایک نئی تاریخ دی ہے۔
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ کچھ لوگ باتیں کرتے ہیں کہ پی ٹی آئی احتجاجی سیاست کرتی ہے،اگر انصاف ملتا تو پی ٹی آئی کبھی بھی احتجاجی سیاست نہ کرتی۔
انہوں نے کہا کہ 9 مئی کے بعد جن لوگوں نے پریس کانفرنس کی وہ بری ہوگئے، بانی پی ٹی آئی کے ساتھ جو کھڑے تھے انہیں سزا دی گئی، یہ نظام پوری طرح ایکسپوز ہو چکا،عدالتی نظام مفلوج بنا دیا گیا ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ تمام آئینی اور قانونی راستے اپنا چکے مگر بانی سے ملاقات نہیں ہوئی، اب ہمارے پاس احتجاج کے سوا کون سا آئینی راستہ رہ جاتا ہے؟
آئی ایس ایف کی تقریب سے خطاب میں انہوں نے بتایا کہ ہم نے 5300 ارب روپے کا حساب لینا ہے، قبائلی اضلاع کے انضمام کے بعد صوبے کو این ایف سی میں اپنا حصہ نہیں دیا جا رہا۔
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کا مزید کہنا تھا کہ اس دفعہ ہم اپنا حق مانگ رہے ہیں اور اسے لے کر رہیں گے، ہمارے 2200 ارب روپے کے بقایاجات وفاق کے ذمہ ہیں۔


