The news is by your side.

Advertisement

قبائلی اضلاع میں فرائض سرانجام دینے خاصہ دار اور لیویز فورس کو پولیس میں ضم کرنے کا اعلان

پشاور : وزیر اعلیٰ کے پی نے محمودخان کا قبائلی اضلاع میں فرائض سرانجام دینے لیویز اور خاصہ داراہلکاروں کوپولیس میں ضم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا قبائلی اضلاع کے حوالے سے آج تاریخی دن ہے، وزیراعظم نے جو وعدے کیے وہ پورے کریں گے۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعلی ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئےوزیراعلی خیبرپختونخوا محمودخان نے کہا لیویز اور خاصہ دار فورس کی ملازمت سے متعلق اج ایک تاریخی دن ہے وزیراعظم عمران خان کی ہدایات کے مطابق کسی کو بے روزگار نہیں کیا جائے گا اور انہی ہدایات کی روشنی میں یویز اور خاصہ دار فورس کو مکمل طور پولیس میں شامل کرنے کا اعلان کرتا ہوں۔

وزیراعلی خیبرپختونخوا محمودخان نے کہا کہ لیویز اور خاصہ دار فورس کی قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں لیویز اور خاصہ دار فورس کو درپیش مذید مسائل بھی حل کیے جائیں گے، وزیراعظم نے جو وعدے کیے وہ پورے کریں گے۔

وزیراعلی نے کہا کہ خاصہ دار اور لیویز کے 22نقاطی ایجنڈے میں سب مطالبات تسلیم کر لیے گئے، تمام لیویز اور خاصہ دار اہلکار پولیس فورس میں ضم ہوگئے، ان کے تمام تحفظات دور کردئیے ہیں، یہ 28 ہزار اہلکار ہیں جنہیں تربیت دیں گے اور پولیس کی طرز پر ہی تمام رینکس، مراعات اور ترقیاں دی جائیں گی۔

محمودخان کا کہنا تھا وزیراعظم عمران خان کے سر اس کا سہرا ہے کہ ان اہلکاروں کا مستقبل محفوظ ہوگیا، ان کے لیے صوبائی حکومت تمام وسائل فراہم کرینگے، قبائلی اضلاع کے حالات میں لیویزاورخاصہ داروں نے قربانیاں دی ہیں اورہم انھیں ان کی قربانیوں کاصلہ دیں گے۔

وزیراعلی خیبرپختونخوا کے نوٹی فکیشن کے مطابق اس کام کے لیے 6 ماہ کا وقت دیا گیا ہے اور یہ انضمام رواں سال اکتوبر تک مکمل ہوگا۔

واضح رہے کہ جنوری میں  خاصہ دار اور لیویز فورس کے اہلکاروں نے پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پولیس میں ضم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

جس کے بعد قبائلی اضلاع میں امن وامان کی فضاء برقراررکھنے کیلئے چھ ہزار اہلکاروں کو بھرتی کرنے، 12 ہزار لیویز اور 18 ہزار خاصہ داروں کو پولیس میں ضم کرنے کی منظوری دیدی گئی جبکہ ضم شدہ اضلاع میں جوڈیشل فورس، تحقیقاتی اور آپریشنل پولیسنگ کا نظام قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں