The news is by your side.

Advertisement

حکومتی وفد کے ساتھ مذاکرات کامیاب، کے الیکٹرک کے خلاف جماعت اسلامی کا دھرنا منسوخ

کراچی: ادارہ نور حق میں وزیر اعلیٰ سندھ کی جماعت اسلامی کے رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات کے بعد جماعت اسلامی نے وزیر اعلیٰ ہاؤس کے باہر دھرنا منسوخ کرکے پریس کلب پر احتجاج کا اعلان کردیا۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ نے جماعت اسلامی کے رہنماؤں سے مذاکرات کرتے ہوئے کہا کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں بجلی کا مسئلہ وفاق نے حل کرنا ہے، میں اس سلسلے میں وفاق کو دو خطوط لکھ چکا ہوں، اب ایک اور خط لکھ رہا ہوں۔

واضح رہے کہ جماعت اسلامی کی طرف سے کے الیکٹرک کے خلاف کل وزیر اعلیٰ ہاؤس کے باہر دھرنے کی کال پر وزیر اعلیٰ سندھ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں سعید غنی، ناصر شاہ اور نثار کھوڑو کے ہمراہ جماعت اسلامی کے رہنماؤں سے ملاقات کی غرض سے ادارہ نور حق پہنچ گئے تھے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ ہم لوڈ شیڈنگ کے مسئلے پر جماعت اسلامی کے ساتھ ہیں، ہم نے بجلی کی مصنوعی قلت کو توڑنا ہے اور کے الیکٹرک سے ہر صورت میں بجلی لینی ہے۔

انھون نےکہا کہ لوڈ شیڈنگ صرف کراچی میں نہیں بلکہ پورا سندھ اس سے متاثر ہے، سندھ کے شہروں میں 18،18 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔ پانی میں بھی ہمارے ساتھ زیادتی ہورہی ہے، ہم نے تمام غیر قانونی ہائیڈرنٹس ختم کردیے ہیں، میں سی سی آئی اجلاس میں اس سلسلے میں بات کروں گا۔

حکومتی وفد سے گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہم حکومتی وفد کی آمد کا خیر مقدم کرتے ہیں، ہم نے کے الیکٹرک سے متعلق اپنا مؤقف دے دیا ہے، کے الیکٹرک کے تمام پلانٹس چلنے چاہئیں۔

جماعت اسلامی کا 6 اپریل کو کراچی میں لوڈ شیڈنگ کے خلاف احتجاج کا اعلان

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ کراچی الیکٹرک بارہ سال سے کراچی کے ساتھ ناانصافی کر رہا ہے، حکومت کی جانب سے جو اقدامات ہوسکتے تھے وہ نہیں ہوئے۔ ہم چند دن دیکھیں گے اگر مسئلہ حل ہوا تو ٹھیک ورنہ پھراحتجاج کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ واٹر بورڈ میں بھی سیاسی بھرتیوں کی وجہ سے آج کراچی کی تیس سے چالیس فیصد آبادی کو دو دو ماہ پانی نہیں ملتا۔ ہم احتجاج اور دھرنوں کا سلسلہ نہیں روکیں گے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں