بی جے پی سے اختلافات : مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی مستعفی
The news is by your side.

Advertisement

بی جے پی سے اختلافات : مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی مستعفی

سری نگر: مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بی جے پی سے اختلافات کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، ان کا کہنا ہے کہ مقبوضہ وادی میں بنیادی انسانی حقوق پامال ہورہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ریاست جموں و کشمیر کی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا ہے، جس کے بعد پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور حکمراں جماعت بھارتیہ جتنا پارٹی کے مابین حکومتی اتحاد بھی ختم کردیا گیا ہے۔

سری نگر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پاکستان اور کشمیریوں سے بھی بات ہونی چاہیے کیونکہ یہ مسئلہ طاقت کے بجائے صرف بات چیت سے ہی حل ہوسکتا ہے، مقبوضہ وادی میں بنیادی انسانی حقوق پامال ہورہے ہیں، بی جےپی کے ساتھ چلنا ممکن نہیں رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے عوام کی خدمت کے لیے بی جے پی سے ہاتھ ملایا تھا، ایجنڈا بنانے میں بھی کئی ماہ لگے، سری نگر دشمن کا علاقہ نہیں ہے یہاں طاقت سے مسئلہ حل نہیں ہو سکتا، محبوبہ مفتی کا مزید کہنا تھا کہ اپنا استعفیٰ گورنر کو بھجوا دیا ہے اور ان کو اس بات بھی آگاہ کردیا گیا ہے کہ اب ہم مزید کوئی الائنس کرنا نہیں چاہتے۔

مزید پڑھیں: بھارتی فوج’’چھوٹے بچوں‘‘ کے خلاف کارروائیاں کررہی ہے،محبوبہ مفتی

یاد رہے کہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور بی جے پی کے ساتھ اتحاد کو اب تک متنازع سمجھا جاتا رہا ہے اور اس دور میں مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر بھارتی فوج کے مظالم میں اضافہ ہوا ہے۔

مزید پڑھیں: سری نگر میں رائزنگ کشمیر کے ایڈیٹر شجاعت بخاری کو قتل کردیا گیا

گزشتہ دنوں سری نگر میں معروف صحافی شجاعت بخاری کو نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے قتل کردیا تھا جس کے بعد دونوں جماعتوں کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے تھے، شجاعت بخاری کی موت کو بی جے پی کی جانب سے اتحاد ختم کرنے کی ایک وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں عید کے روز بھی بھارتی مظالم جاری، دو کشمیری نوجوان شہید

دوسری جانب اقوام متحدہ کی جانب سے حال ہی میں ایک رپورٹ جاری کی گئی تھی جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ بھارت اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی آزادانہ تحقیقات کی جائیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔ 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں