site
stats
پاکستان

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا طالب علم مشعال خان کے قتل کے واقعے کی جوڈیشل انکوائری کا حکم

پشاور : وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے مردان طالب علم مشعال خان کے قتل کے واقعے کی جوڈیشل انکوائری کی سمری پر دستخط کردیئے جبکہ واقعے کی پولیس تحقیقات بھی جاری ہیں۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کا کہنا ہے کہ مشعال خان کسی واقعہ میں ملوث نہیں تھا، کیس کو لوگوں کیلئے مثال بنائیں گے، واقعے کی جوڈیشل انکوائری کا حکم دے دیا ہے، کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دینگے۔

پرویز خٹک نے کہا کہ واقعے میں ملوث تمام ملزمان کو کیفرکردار تک پہچائیں گے کیونکہ اگر نوجوان جوش میں آکر قتل کرتے رہے تو ملک غلط سمت میں چل پڑے گا، واقعہ بربریت ہے، ایسی کارروائی کریں گے کہ لوگ آئندہ قانون ہاتھ میں لیتے ہوئے ڈریں گے۔


مزید پڑھیں : عبدالولی یونیورسٹی میں بہت ظلم ہوا، پرویز خٹک


دوسری جانب مردان میں پولیس نے علاقے میں کریک ڈاؤن کے دوران ساٹھ کے قریب افراد کو گرفتار کر لیا، ایف آئی آر میں یونیورسٹی کے 4 ملازم اور تحصیل کونسلر بھی نامزد ہیں۔

مشعال کے قتل کے واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور اس میں انسداد دہشتگردی کی دفعات بھی شامل کرکے تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔

مشال خان کے والد کا کہنا ہے ان کا مشعال تو بجھ گیا ،معاشرہ کوشش کرے کسی اور گھر کا مشعال نہ بجھے، مشعال کے والد نے بیٹے کی باتوں کو یادکرتے ہوئے بتایا وہ اسلام کو امن اور سلامتی کا دین سمجھتا تھا  مشعال تصوف کی طرف مائل تھااس کی طبیعت میں امن تھاوہ انسان کا احترام چاہتا تھا۔

واضح رہے گذشتہ روز مردان میں عبدالولی خان یونیورسٹی میں طلبہ تنظیموں میں تصادم کے نتیجے میں ایک طالب علم مشال خان جان سے گیا تھا، تصادم میں ڈی ایس پی سمیت سات افراد زخمی بھی ہوئے، کشیدگی کے باعث یونیورسٹی غیرمعینہ مدت کے لیے بند کردی گئی۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top