The news is by your side.

Advertisement

وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب، حکومتی اتحاد کا 3 آپشنز پر غور

وزیراعلیٰ پنجاب کے کل ہونیوالے الیکشن سے متعلق حکومتی اتحاد 3 آپشنز پر غور کررہا ہے، عہدے کیلیے حکومتی اتحاد کے پرویز الہٰی اور اپوزیشن اتحاد کے حمزہ شہباز میں مقابلہ ہے۔

نیا وزیراعلیٰ پنجاب کون ہوگا اس کیلیے کل پنجاب اسمبلی کا اجلاس ہوگا۔ حکومتی اتحاد کی جانب سے پرویز الہٰی اور اپوزیشن اتحاد کے حمزہ شہباز میں مقابلہ ہے اور دونوں ہی جانب سے سیاسی جوڑ توڑ جاری ہے۔

اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے حوالے سے حکومتی اتحاد 3 آپشنز پر غور کیا جارہا ہے۔

ذرائع کے مطابق پہلا آپشن یہ ہے کہ اسپیکر20 سے زائد منحرف ایم پی ایز کے ووٹ نہ گننے کی  رولنگ دے، ساتھ ہی ن لیگ کے 5 منحرف ارکان کے ووٹ بھی نہ گنے جائیں۔کیونکہ اگر اس آپشن پر عمل کیا جاتا ہے تو کوئی بھی امیدوار مطلوبہ 186 ووٹ نہیں لے سکے گا اور مطلوبہ ووٹس نہ لینے پرحکومتی اتحاد سادہ اکثریت لے سکتا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ دوسرا آپشن پنجاب اسمبلی کا اجلاس دوبارہ ملتوی کرنا ہے، تیسرا آپشن 20 میں سے5 ارکان اپوزیشن سے واپس لاکر186 مکمل کیے جائیں۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ 6 منحرف ارکان اپوزیشن کیساتھ ہیں مگر ووٹ دینے کا وعدہ پرویز الہٰی سے کیا ہے تاہم حکومتی اتحاد ان 6 ارکان کو اپنی گنتی میں شامل نہیں کررہا ہے جس کی وجہ سے مطلوبہ گنتی پوری نہیں ہورہی ہے۔

ذرائع نے مزید کہا ہے کہ اسمبلی میں ہاتھا پائی پر ارکان کی معطلی پر ووٹنگ سے متعلق حکومتی اتحاد میں متضاد رائے پائی جاتی ہے جس کے باعث معطل ارکان ووٹ دے سکتے ہیں یا نہیں اس پر بھی فیصلہ اسپیکرکا ہوگا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں