The news is by your side.

مبینہ حملہ آور کی ویڈیو جاری کرنے پر وزیر اعلیٰ پنجاب کا بڑا فیصلہ

لاہور : وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہٰی نے آزادی مارچ کے موقع پر عمران خان پر قاتلانہ حملے میں ملوث مبینہ حملہ آور کا ویڈیو بیان جاری کرنے پر پورے تھانے کے عملے کو معطل کردیا۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب نے فائرنگ کرنے والے ملزم کا وڈیو بیان لیک کرنے کا سختی سے نوٹس لے لیا۔ ملزم کے اعترافی بیان کی ویڈیو جاری کرنے پر متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او سمیت تمام عملے کو معطل کردیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے آئی جی پنجاب کو غیر ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف تادیبی کارروائی کی ہدایت کردی جبکہ تھانے کے تمام عملے کے موبائل فون قبضے میں لے لیے گئے ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویزالٰہی کا کہنا ہے کہ عملے کے موبائل فونز کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے گا، انہوں نے ملزم کا بیان لیک ہونے کے واقعے کی انکوائری کا حکم بھی جاری کیا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے آئی جی پنجاب کو سختی سے ہدایت دی کہ فوری تحقیقات کرکے محرکات سامنے لائے جائیں، قبل ازیں وزیراعلیٰ پنجاب کی زیرصدارت ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس میں واقعے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

پرویز الہٰی نے اسپتال جاکر عمران خان کی عیادت کی 

علاوہ ازیں وزیراعلیٰ پنجاب پرویزالٰہی نے شوکت خانم اسپتال پہنچ کر زخمی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی عیادت کی، اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی جلد صحت یابی کیلئے دعاگو ہوں، اللہ کا شکر ہے کہ دشمن کے مذموم عزائم ناکام ہوئے۔

اس حوالے سے صدر سپریم کورٹ بار عابد زبیری نے اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مبینہ حملہ آور کا ویڈیو بیان لیگل اسٹیٹس نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اتنی جلدی کیسے مبینہ ملزم کے اعترافی بیان کی ویڈیو کو میڈیا پر چلوا دیا گیا، عابد زبیری نے مزید کہا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے ہمارے قومی لیڈر اب محفوظ ہیں، عمران خان پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں