لاہور میں بسنت کی اجازت ملنے کا امکان، کمیٹی تشکیل -
The news is by your side.

Advertisement

لاہور میں بسنت کی اجازت ملنے کا امکان، کمیٹی تشکیل

لاہور: لاہورمیں رواں سال بسنت منانے کی اجازت ملنے کے امکانات روشن ہوگئے، وزیراعلی نے بسنت کی اجازت دینے کے حوالےسے کمیٹی تشکیل دے دی۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب نے لاہور میں بسنت کے تہوار کو محفوظ بنانے کے لیے سفارشات مرتب کرنے کے لیے صوبائی سطح پر 8 رکنی کمیٹی تشکیل دینے کا نوٹی فکیشن جاری کردیا۔ کمیٹی کی سربراہی رانا مشہود کریں گے جب کہ ان کی معاونت کے لیے کمیٹی میں سی سی پی او، کمشنر، ڈی سی او، اولڈ سٹی اتھارٹی اورکائٹ فلائٹ ایسوسی ایشن کے نمائندے اورعلامہ اقبال کے نواسے یوسف صلاح الدین شامل ہوں گے۔

پنجاب حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹ فکیشن میں بتایا گیا ہے کہ کمیٹی لاہورمیں بسنت کے تہوار کو محفوظ طریقے سے منانے کے لیے سفارشات مرتب کرے گی اور اس میں سیاحتی نکتہ نظر کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسا ضابطہ اخلاق بنایا جائے گا جس کے ذریعے انسانی جانوں اوراملاک کو محفوظ بنانے کو یقینی بنایا جاسکے۔

نوٹی فکیشن میں ہدایت کی گئی ہے کہ کمیٹی فوری طور پر اپنی کارروائی کا آغاز کرے اور دو ہفتوں میں اپنی سفارشات مرتب کرکے پیش کرے تاکہ اس پر عمل درآمد کے حوالے سے فوری اقدامات کیے جا سکیں۔

واضح رہے کہ لاہور کی بسنت بین الاقوامی طور پر شہرت کا حامل ایک تہوار بن گئی ہے جسے نہ صرف نجی طور پر بلکہ سرکاری سطح پر بھی بھرپور جوش و جذبے کے ساتھ منایا جاتا ہے جس کے دوران بسنت نایٹ میں مختلف تقریبات منعقد کی جاتی ہیں جہاں پُرجوش فنکشن اور میوزیکل شوز کرائے جاتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ اس رنگا رنگ تہوار بسنت میں شرکت کے لیے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے مختلف ممالک سے سیاح شرکت کے لیے لاہورآتے ہیں اوراس تہوارکے دوران لاہور کا اپنا ہی ایک رنگ ہوتا ہے جس کے باعث یہاں ہرقسم کی کاروباری سرگرمیاں بھی عروج پرہوتی ہیں تاہم پتنگ بازی میں دھاتی ڈور کے استعمال اور اس سے ہونے والے جانی نقصان پتنگ کٹنے کے واقعات پر ہنگامہ آرائی اور قتل و غارت گری کے واقعات کے بعد اس پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔

بعد ازاں انتظامیہ کی جانب سے محدود پیمانے پر بسنت منانے کی مشروط اجازت دی جاتی رہی ہے تاہم پابندیوں کی وجہ سے بسنت کا وہ رنگ کبھی نظر نہیں آیا جو سال 2006 سے پہلے ہوا کرتا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں